انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 383

کے زمانے میں اگر کوئی رسہ دیتا تھا اور اب نہیں دیتا تو میں تلوار کے زور سے لوں گا۔حضرت عمرؓ ایسے جری و بہادرنے بھی رائے دی کہ اس وقت مصلحتِ وقت نہیں کہ زکوٰۃ پر زور دیا جائے۔مگر آپ ؓنے ان کی ایک نہ مانی۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ زکوٰة کس قدر ضروری ہے۔اگر احمدی اپنی زکوٰۃ کا باقاعد و انتظام کریں اور اسے امام کے حضور بھیج دیا کریں تو بہت سے قومی کام پورے ہوسکتے ہیں۔روزےتیرارکن روزے ہیں۔یہ ایسی پاک عبادت ہے کہ حدیث میں آیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہر نیکی کا ایک اجر ہے مگر روزوں کا اجر میں ہوں۔روزہ داروں کے لئے بہشت کےتمام دروازے کھول دیئے جائیں گے کہ جس دروازے سے چاہو جنت میں داخل ہو۔بلکہ ایک دروازه او ر ہو گا جس کا نام ریّان ہو گا۔حجپھر حج ہے۔غیر احمدی کہتے ہیں۔احمدی حج نہیں کرتے۔تم میں سے جوذی استطاعت ہیں وہ جو کر کر کے دکھا دیں کہ ہم لوگ کہ مکہ معظمہ کی کس قدر تعظیم کرتے ہیں۔امر بالمعروف نہی عن المنكرپھر وتواصوا بالحق و تواصوا بالصبر پرعمل کرو۔دنیا میں نیک باتیں پھیلانے والے بنود اور بری باتوں سے روکو۔اصلاح اپنے گھروں سے شروع کرو۔آپس میں محبت رکھو۔الفت بڑھاؤ - میل جول کو ترقی دو تعلقات کو مستحکم کرو۔یہ سب باتیں تقوی ٰکے لئے ضروری ہیں اس لئےان کا بیان کیا۔للذين احسنوا فی ھذہ الدنیا حسنة ایسے محسنوں کی نسبت فرماتا ہے۔کہ جولوگ دنیا میں نیکی کرتے ہیں اس دنیا میں ان کو نیکی ملے گی۔کیا پاک معیار ہے۔جو لوگ خدا کے پیارے ہیں وہ کبھی ذلیل نہیں ہوتے۔کوئی ہے جو کھڑا ہو کر کہہ سکے کہ فلاں متقی ذلیل ہو کر مرا ،مجنوں ہو کر مرا ،یا کوئی خدا کا صدیق، خدا کا متقی،خدا کار ہیز گار مرگی زدہ ہو کر مرا۔کوئی ہے جو یہ گواہی دے سکے کہ متقی ایسا بوڑھا ہو گیا کہ وہ ارزل العمر کو پہنچ گیا ہو۔ہاں اس کے خلاف میں شہادت دے سکتا ہوں۔کہ بڑے بڑے ذی سطوت وصاحب حکومت بادشاه با وجو داتنے اقتدار و وقار کے مجذوم ہو گئے۔ان کو مرگیاں پڑیں۔وہ دیوانےہو گئے۔پس دوستو تقویٰ اختیار کرو۔کیونکہ تقویٰ وه دولت لازوال ہے جو ختم نہیں ہوتی۔بلکہ بڑھتی ہے۔اور تقویٰ ہی وه تریاق ہے جس کے سبب انسان تمام قسم کے زہروں سے محفوظ رہتا