انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 357 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 357

خوراک سے خورندہ کو شرف حاصل ہے (حجۃ الہند) اس کے علاو و مہما بھارت وغیرہ کتب سے تو گوشت خوری کی عجیب کیفیت معلوم ہوتی ہے خودراجہ رامچندر شکار کرتے تھے اور بھون کر کھاتے تھے۔پسں جبکہ اچھی طرح ثابت ہے کہ ست جگ میں جبکہ دنیا میں بدی کا نام و نشاں نہ تھا او رویداتررہے تھے۔گوشت خوری جاری تھی۔اور بعض تیو ہاروں کے موقعہ پر فرض تھی۔تو اس زمانہ میں نامعلوم آریہ صاحبان اس کے خلاف اس قدر کیوں زور لگارہے ہیں۔یا توویدوں کو اور اس زمانہ کےتمام لوگوں کو گندہ اور ناپاک قرار دیں یا اقرار کریں کہ گوشت خوری کے معاملہ میں جو ان کی رائےہے وہ صرف کمزوری اور ضعف قلب کی وجہ سے ہے۔اس بات کے ثابت کرنے کے بعد کہ اگر گوشت خوری بری ہے تو ہندومذ ہب بھی اس برائی میں مبتلا ہے اور خود وید اور منوشاسترجس کی غفلت کا اقرار پنڈت دیانند کر چکے ہیں اس پر شاہد ہیں اور اس رسم کے مؤیّد ہیں۔میں ایک اور پہلو سے گوشت خوری کے مسئلہ پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں۔گوشت خوری کیوں بری ہے؟اول سوال یہ ہے کہ گوشت خوری بری کیوں ہے ؟اس کا جواب سوائے اس کے کیا ہے کہ بلا وجہ و سری روحوں کو تکلیف دی جاتی ہے۔اور ان پر ظلم کیا جاتا ہے یہی معلوم ہوا کہ گوشت خوری اپنی ذات میں بری نہیں بلکہ اس لئے بری ہے کہ جس ذریعہ سے گوشت آتا ہے اس میں ظلم کا شائبہ ہے کیونکہ جب ایک جانور ذبح ہو چکا۔اس کے بعد اس کوکیا تکلیف محسوس ہو سکتی ہے۔اس کو تکلیف تو تب تک تھی جب تک وہ ذبح ہو رہا تھا۔ذبح ہو نے کے بعد وہ ایک جسم بے جان ہے۔اس کے ٹکڑے کرو اور اس کی ہڈیاں پیس دو، جلا دو، خاک کر دو اس میں اب تکالیف کا کوئی احساس باقی نہیں رہا جیسے پتھر لکڑی وغیرہ اشیاء بےجس ہیں ویسا کی وہ جسم بے جان بے حس و حرکت ہے۔پس ظلم گوشت کھانے میں نہیں۔ظلم اس طریق حصول میں ہے جس سے گوشت انسان کو ملتا ہے۔اور گوشت کھانے والا اس لئے ظالم ہے کہ یا تو وہ خود کسی روح کو تکلیف دیتا ہے یا اس کے باعث کسی روح کو تکلیف دی جاتی ہے کیونکہ اگر وہ گوشت نہ کھائے تو لوگ جانور ذبح بھی نہ کریں، غرض یہ کہ اصل میں برا جانور کا مارنا ہے نہ کہ کھانا۔آریوں کو تو