انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 356 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 356

چڑھاووں کے بقیہ کے کھانے کی نسبت ہدایتیں دی گئی ہیں اور اتھربن وید کی گوتھ برہمن میں منتقل طور سے ان مخصوں کے نام پائے جاتے ہیں جو قربانی کی رسم کے ادا کرنے میں کچھ نہ کچھ لیا کرتے تھے اور بتلایا جاتا ہے کہ ہر ایک کو قربانی شدہ جانور کا کون کون سا حصہ ملنا چاہئے۔اسی طرح پروفیسرولسن صاحب لکھتے ہیں۔’’ اس میں کچھ شک نہیں ہے۔کہ گھوڑاذبح کیا جاتا تھا اور اس کا بدن ٹکڑے ٹکڑے کر کے درست کیا جا تا تھا۔اور اس میں سے کچھ ٹکڑے تو ابالے جاتے تھے اور کچھ بھونے جاتے تھے ‘‘ ڈاکٹر راجندر لعل متراپنی کتاب انڈین آر ین پر لکھتے ہیں کہ’’ ہندو مذہب کی تعلیم خواہ کیسی ہی رحم اور مہربانی سے پر کیوں نہ ہو۔مگر وہ حیوانوں کی قربانی کے بالکل مخالف نہیں ہے ، بلکہ بہت سی بڑی بڑی رسموں کے ادا کرتے وقت کئی قسم کے حیوان اور پرندے کثرت کے ساتھ ذبح کئے جاتے تھے۔ایک رسم کے پورا کرنے کے لئے رسم ادا کرنے والے کے لئے بھی ضروری ہوتا تھا کہ وہ سمندر میں ڈوب کر مر جائے۔اس کو وہ مہا پرستھنا کہتے تھے۔ایک اور رسم کفارہ کے لئے ہوتی تھی جس میں گناہگار اپنے تیئں جلا کر راکھ کر لیتا تھا اس کو شنا کہتے تھے بنگال کی رحمدل عورتیں بہت عرصہ تک اپنے پلوٹھے بچوں کو دریائے گنگا میں پھینکتی رہی ہیں۔آجکل اگر ہندو مذہب کے پیرؤوں نے ان باتوں پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے (گورنمنٹ کے ڈرسے۔مؤلف مضمون ہذا) تو یہ فرض کرنابھی خلاف عقل معلوم نہیں ہوتا کہ قدیم زمانہ شیمی و یو تاؤں کے غضب سے مٹانے کے لئے انسان قربان کئے جاتے تھے‘‘ اس اقتباس سے بھی ظاہر ہے کہ ست جگ میں قربانی کی جاتی تھی بلکہ انسان بھی قربان کئے جاتے تھے۔مونٹ سٹورٹ انفنسٹن لکھتے ہیں کہ منو کے دهرم شاستر میں بڑے بڑے تیوہاروں میں بیل کے گوشت کھانے کے لئے برہمنوں کو تاکید کی گئی ہے اگر نہ کھائیں تو گنہگار ہوں۔شاستر میں لکھا ہے کہ جو جانور کھانے میں آتے ہیں اور جو لوگ انہیں کھاتے ہیں دونوں کو برہما نے پیدا کیا ہے۔اس لئے اگر شاستر کے طور پر انہیں کھاویں تو کچھ گناہ نہیں اور دیوتاؤں اور پتروں کو گوشت چڑھا کر کھانا کچھ پاپ نہیں۔اور برہمنوں کو ساہنے، گرگٹ ،چھپکلی ،مگرمچھ، خرگوش و غیرہ کھانا درست ہے (حجۃ الہند) منوشاستر میں ہے کہ سورج کی اترائیں اور دکھشائن میں بلیدان یعنی قربانی کرنا اور کھانا فرش ہے- (حجۃ الھذا) اسرب اپنکھداتھربن وید میں ہے کہ جن حیوانات کے تلے کے دانت میں وہ خورندہ ہیں۔