انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 244

ہے کہ آئندہ کے لئے گناہوں سے بچے اور پچھلے گناہوں کی سزا کا منتظرر ہے (مسیحی ایک طریق گناہوں کی سزا سے بچنے کا بتاتے ہیں مگر وہ اس جگہ کچھ تعلق نہیں رکھتا اس لئے انشاء اللہ آئندہ بیان ہوگا) پس ہمارا اور دیگر مذاہب کا اس مسئلہ میں ایک عظیم الشان اختلاف ہے جس پر بحث کرناضروری ہے اور چونکہ گناہوں کی معافی کا تعلق خدا تعالیٰ کی صفات سے ہے اور ساری بحث کادارومدار اس پر آن رہتا ہے کہ آیا خدا تعالیٰ کی صفات یہ چاہتی ہیں کہ انسان کے گناہوں کو بروقت توبہ معاف کیا جائے یا اسے ضرور ہی سزادی جائے اور باوجود اس کی ندامت اور پشیمانی کے اورآئنده اصلاح پر آمادہ ہونے کے اس کو ہلاک کر کے چھوڑا جائے۔اس لئے اولا ًمیں خدا تعالیٰ کی صفات پر کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔یاد رہے کہ میں مسئلہ نہیں بلکہ جس قدر دیگر مسائل میں مذاہب کا اختلاف ہے وہ صرف خدا تعالیٰ کی صفات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے چنانچہ دنیا کے مذاہب پر نظر رکھنے والے اور ان کی تحقیقات میں دلچسپی رکھنے والے لوگ جانتے ہیں کہ کل مذاہب میں جب برائیاں پڑی ہیں۔اورطرح طرح کی بدعات داخل ہوئی ہیں تو اس کا اصل باعث یہی ہے کہ مرور زمانہ سے ان لوگوں میں خدا تعالیٰ کی کسی ایک صفت یا بہت سی صفات کے متعلق غلط فہمی ہو گئی جس کی وجہ سے ان کےاعمال بھی بگڑتے بگڑتے کسی اور طرز پر آگئے مثلا ًایک فرقہ جو خدا تعالیٰ کی نسبت یہ خیال کرتا ہو کہ خدا تعالیٰ کو ذرہ ذرہ کا علم ہوتا ہے۔اگر مرور زمانہ سے وہ خدا تعالیٰ کے علم کی صفت کے سمجھنے سےدھوکہ کھا جائے اور اس کا یہ خیال ہو جائے کہ خدا تعالیٰ کو کلیات کا ہی علم ہے اور جزئیات کا علم نہیں۔تو ضرور ہے کہ اس کے بہت سے عقائد ساتھ ہی بدل جائیں گے مثال کے طور پر ان کو ماننا پڑےگا کہ قیامت کو ان کے بہت سے گناہ خدا تعالیٰ کی نظر سے پوشیدہ ہونے کی وجہ سے سزا سے بچ جائیں گے۔اور وہ یہ بھی خیال کریں گے کہ خدا تعالیٰ کو دھوکہ بھی دیا جاسکتا ہے۔غرضیکہ خدا تعالیٰ کی ایک صفت میں غلط فہمی ہو جانے کی وجہ سے ہی مذاہب میں اختلافات پیداہوئے ہیں اور اگر سب مذاہب صفات الہٰیہ اور ان کے ظہور میں متفق ہوتے تو پھر کوئی اختلاف نہ ہوتا اور سب مذاہب ایک ہی بات کے ماننے والے ہوتے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ سوائے بہت چھوٹے چھوٹے اختلافات کے سب مذاہب ایک ہی ہو جاتے مگر چونکہ صفات الہٰیہ کے سمجھنے اور ان کے ظہور کے طریقہ میں بہت کچھ اختلافات ہو گئے ہیں۔اس لئے آپس میں اس قدر بعد واقعہ ہوگیا۔