انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 222

رہتے ہیں ان کے دلوں میں بڑی بڑی خواہشیں ہیں۔جن کو وہ کبھی نہ پہنچیں گے۔پس اللہ کی پناہ مانگتا رہ- وہ سب سننے والا اور سب دیکھنے والا ہے۔ناقل) اس آیت میں خدا تعالیٰ نے مخالفین اسلام پر یہ حجت قائم کی ہے کہ جب تم مذاہب کے متعلق گفتگو کرتے ہو تو تمہارا فرض ہے کہ دعوی ٰاور دلیل پیش کیا کرو۔مگر جب کہ تم کوئی دلیل پیش نہیں کرتے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے تم کو ملی ہو تو دعویٰ باطل سے کیا حاصل بلا دلائل مباحثہ کا کیا نتیجہ۔پس اس آیت میں خدا تعالیٰ نے کل مذہبی مباحثوں کاآسان اور سہل طریق بتادیا ہے کہ اگر فیصلہ چاہو تو سہل راہ یہ ہے کہ دلائل پیش کرو جو کہ تمہاری کتب میں دیئے گئے ہوں نہ کہ جس کی جو مرضی ہوئی عقیدہ گھڑ لیا اور شتر بے مہار کی طرح بولتےگئے۔مسیحی صاحبان میں اگر یہ عادت داخل ہوئی۔تو میں سمجھتا ہوں کہ ان کی جدت پسندی اورآئے دن کی ایجادوں کی وجہ سے ہوئی کیونکہ ان میں جہاں ہزاروں ہزار موجد اور سائنس کے علماءپیدا ہو گئے۔وہاں پادریوں نے بھی اپنی عزت قائم رکھنے کے لئے آئے دن نئے نئے عقیدے اورنئے نئے دعاوی ایجاد کرنے شروع کئے۔مگر یہ معلوم آریہ صاحبان نے ان ایجادوں میں کہاں سےکمال حاصل کیا۔غرض کہ یہ طرز خواو مسلمان اختیار کریں یا مسیحی یا آر یہ بہت ہی خطرناک اور ضرررساں ہے کہ جس کے دل میں جو کچھ آیا وہ کہہ دیا۔جس کا ثبوت تو ثبوت د عویٰ تک کتاب میں سےنہ نکلے۔پس یہ کس طرح ممکن ہے کہ خدا جو ایک بے عیب ہستی ہے اپنا مافی الضمیر بیان کرنے کی بھی طاقت نہ رکھے اور اپنا منشاء بیان کرنے سے قاصر رہے اور انسان کا فرض ہو کہ جو دعاوی خدا تعالیٰ سے بیان کرنے میں رہ گئے تھے یا جن کے لئے اسے کوئی دلیل نہیں سمجھ میں آئی۔ان دعاوی کوتلاش کرے اور دلا ئل بھی اپنی طرف سے پیش کرے۔میرے خیال میں تو اس اعتقاد کا شخص خدا تعالیٰ کے علم اور طاقت کا منکر ہے اور مذاہب کا مصلح نہیں بلکہ مفسد ہے۔دیکھو قرآن شریف نے کیسے بین طور سے فرمایا ہے کہ مَا كَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰى وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ (یوسف: ۱۱۲)یعنی قرآن شریف کو ئی جھوٹی بات نہیں ہے بلکہ یہ تو سچا کرنے والی ہے اس کو جو کہ آگے آیا ہےاور اس میں تو ہر ایک بات جو کہ دین کے متعلق ہے مفصل دعویٰ اور دلیل کے ساتھ بیان کی گئی ہے۔اور اس میں گمراہوں کے لئے ہدایت راستی کے طریق ہیں اور یہ تو ایمانداروں کے لئے ایک رحمت کا موجب ہے۔ایسا نہیں کہ اس کو مان کر انسان ایک مصیبت میں پڑ جائے اور آگے من گھڑت دعاوی اور دلائل کے ساتھ اس کی مدد کرنی پڑے۔