انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 221

کتاب میں سے دکھائے تاکہ انسان پر اس الہامی کتاب کی عزت ثابت ہو۔مثلا ًیہی نجات کا مسئلہ ہے۔اس کے لئے ضروری ہے کہ اول تو ایک مسیح اپنی کتاب میں سے دکھائے کہ نجات بھی کوئی چیزہے اور اگر ہے تو وہ کیا ہے۔اور پھر اس کے حصول کے کون سے ذرائع ہیں اور یہ تمام باتیں جو بیان کی گئی ہوں۔تو ان کے ساتھ دلائل بھی دیئے گئے ہوں ورنہ یہی کہنا پڑے گا کہ مدعی سست اور گواہ چست۔پس اس مضمون میں انشاء اللہ جو اسلامی اصل پیش کروں گا اسے قرآن شریف سے پیش کروں گا۔اور اس کے دلائل بھی قرآن شریف سے ہی دوں گا اور اس کی مدد میں اگر کوئی حدیث رسول الله ﷺہوگی تو اسے بھی تفسیر کے طور پر پیش کروں گا۔اور میرے خیال میں مذہبوں کافیصلہ کرنے کے لئے اس سے زیادہ آسان اور کوئی راہ نہیں۔ورنہ اگر انسان من گھڑت اعتقاد بنانے شروع کردے۔تو پھر مذہب تو کچھ چیز نہیں رہتا۔اور نہ الہامی کتاب کی تھی کوئی ضرورت رہتی ہے اور بات بھی کیسی لغو ہے کہ جس خدا نے ہم کو پیدا کیا اور ہم ماں کے رحم میں تھے تو وہاں بھی ہماری پرورش کے سامان تیار کئے پھر ہم پیدا ہوئے تو یہاں ماں کی چھاتیوں میں دودھ پہلے سے تیارتھا۔بڑے ہوئے تو ہر قسم کے خورونوش کے سامان مہیاپاۓ جس نے ان کے لئے سورج اور رات کے لئے چاند اور ستارے بنائے۔پھرایساخد اجو قادر ہے جو دلوں کے بھیدوں سے واقف ہے اور ہرقسم کے وساوس اس پر روشن ہیں۔کیا اس نے ہماری نجات کے ذرائع نہیں پیدا کئے اور اپنی کتاب میں بھی ان عقائد کا کوئی ذکر نہیں کیا کہ جس پر انسان کی نجات کا دارومدار ہے۔اور اس کے لئےاسے اور لوگوں سے التجاکرنی پڑی کہ تم ہمارے لئے کچھ اعتقادات بناؤ کہ جن پر ہم ایمان لائیں اوران کے لئے کچھ دلائل بھی تلاش کرو کہ تاہم چشموں کی نظروں میں سبک اور ذلیل نہ ہوں۔اگر مذہب کی یہی اصلیت ہے تو پھر یہ مذہب آج بھی گئے اور کل بھی گئے۔میرے دعویٰ کی دلیل میں اس دعوی ٰکو بھی بغیر دلیل کے پیش کرنا پسند نہیں کرتا۔اس لئےتو قرآن شریف سے اس کا ثبوت دیتا ہوں کہ قرآن شریف نےاس اصول کو تسلیم کیا ہے اور اپنی سچائی کا اسے دار ومدار ٹھہرایا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْۙ-اِنْ فِیْ صُدُوْرِهِمْ اِلَّا كِبْرٌ مَّا هُمْ بِبَالِغِیْهِۚ-فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِؕ-اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ ( المؤمن : ۵۷) ترجمه (وہ لوگ جو کہ اللہ کی آیتوں کے بارے میں بغیر کسی دلیل کے جو ان کے پاس (خدا کی طرف سے) آئی ہو۔بحث میں لگے