انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 188 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 188

پس گناہ اسی کانام ہے کہ انسان اعتدال کو چھوڑ دے اور اپنے فرائض منصبی میں کمی کرنے لگےجائے یا زیادتی شروع کردے مثلاً انسان کو شہوانی قوی ٰعنایت کئے گئے ہیں کوئی شخص ان میں اعتداءکرتا ہے اور عدل پر قائم نہیں رہتا اور ان قویٰ کو اپنے موقعہ اور محل پر استعمال نہیں کرتا اور بیوی کو چھوڑ کر غیر عورت پر استعمال کرتا ہے تو ایسا شخص چونکہ اعتدال کو ہاتھ سے دے بیٹھا اس لئےگناہ گار کہلائے گا اور خدا کے حضور کے حضور میں مجرم سمجھا جائے گا لیکن جو اس قوت کو برمحل اور با موقعہ استعمال میں لاتا ہے وہ متقی ہے اور والذين هم لفروجهم حفظون (المؤمنون:۶) کے گروہ میں شامل ہے غرض کہ اسی طرح کل گناہوں کو دیکھ لو کہ نیک صفات کو اعتدال سے استعمال نہ کرنےسے ہی پیدا ہوتے ہیں ورنہ اصل میں گناہوں کا وجود نہیں۔قرآن شریف میں گناہ کی تعریفپس مشاہدہ ہم کو یہ بات بتاتا ہے کہ گناہ صرف صراط مستقیم کو چھوڑنے کا نام ہے چنانچہ سورة فاتحہ میں خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ اهدنا الصراط المستقيم صراط الذين انعمت عليهم غیر المغضوب علیھم ولا الضالین یعنی متقیوں کی راہ وہ ہے جو سیدھی ہو اور اعتدال سے ہو اور وہ لوگ جو تقویٰ سیکھنا چاہیں انہیں چاہئے کہ دعا مانگیں کہ انہیں بھی ان لوگوں کی پیروی کی توفیق ملے اور ایسا نہ ہو کہ وہ یہودیوں کی طرح ہو جائیں کہ جنہوں نے مسیح اور آنحضرت ﷺ کے نہ ماننے سے انبیاءؑ اللہ کی تعظیم میں کمی کی او رسبت میں اعتداء کیا اور اسی طرح مسیحیوں کی پیروی نہ اختیار کریں کہ انہوں نے آنخضرت ﷺ اور خود اپنی شریعت کو نہ مان کر تفریط سے کام لیااور مسیح کی محبت میں حد سے زیادہ غلو کیا اور دوسرے بتایا کہ ایسا نہ ہو کہ تم کسی سے بے جاعدادت کر بیٹھو یا علم صحیح اور علم الہٰی جو تم کو انبیاء علیھم السلام کے ذریعہ ملا ہے کی خلاف ورزی کرو اور مغضوب بن جاؤ یا کسی سے زیادہ اور بے جا محبت کر کے اور ان علوم الہیٰہ کے خلاف جن کو انبیاءؑلائے چل کران سے محروم رہ جاؤ اور ضلال میں پڑ جاؤ۔پس اس سورۃ میں خدائے تعالیٰ نے گناہ کی کیفیت کھول کر بیان فرما دی ہے کہ وہ اصل چیز کیاہے غرض کہ نیکی اصل اور صراط مستقیم ہوتی ہے اور بدی صراط مستقیم سے ادھر ادھر ہونے کو کہتےہیں چنانچہ انسان میں جو اصل چیز پیدا کی گئی ہے وہ حسن ہے چنانچہ قرآن شریف میں ہے کہ لقدخلقنا الإنسان في أحسن تقويم (التین۵) اور پھر اس طرح خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ 1