انوارالعلوم (جلد 1) — Page 187
بسم اللہ الرحمن الرحيم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم نجات تمہید:۴د سمبر 1954ء کو پادری میکلین صاحب نے مشن کالج لاہور کے کمپاؤنڈ میں ایک لیکچراس بات پر دیا تھا کہ نجات کیا ہے اور کس طرح حاصل ہو سکتی ہے اس لیکچر میں آپ نے گووہی باتیں دہرائی ہیں جو ایک مدت سے مسیح صاحبان فرمارہے ہیں اور جن کا جواب سالہاسال سے دیا جارہا ہے مگر اس خیال سے کہ مسیحی لیکچروں کو سننے کے بعد اگر لوگوں کو ساتھ ہی مسیح نجات کی اصل حقیقت بھی معلوم ہو جائے تو شاید کسی نیک فطرت کو فائدہ پہنچے۔میں چاہتا ہوں کہ آپ کے لیکچر کےجواب میں ایک مختصر سا مضمون لکھ کر ظاہر کروں کہ وہ نجات جو پادری صاحب نے بیان فرمائی ہےوہ اصل میں نجات ہے یا نہیں۔پہلے اس کے کہ میں مسیح نجات پر کچھ لکھوں گناہ کی تعریف اورجوکچھ اس کی نسبت قرآن شریف بلکہ توریت نے بھی بتایا ہے مختصراً بیان کر دینا ضروری سمجھتا ہوں۔گناہ کی اصلیتیاد رہے کہ نجات کا سب دار و مدار تقوی اور طہارت پر ہی ہے اگر کوئی شخص گناہوں سے بالکل پاک ہو جائے تو وہ نجات پاگیا اور جو گناہوں کےپھندے میں پھنس گیا اور شیطانی تصرف میں آگیاوہ ہلاک ہو گیا۔پس ہم دیکھتے ہیں کہ گناہ کیا ہے یاد رہے کہ گناه نام ہے ان خد ادادطاقتوں کے غیرمحل استعمال کرنے کا جو کہ خدائے تعالیٰ نے انسان کوعنایت فرمائی ہیں مثلاً انسان کو بہادر ی عنایت ہوئی ہے اگر کوئی شخص اس کو اس کے محل پر استعمال نہ کرے اور غیر محل اور ناجائز استعمال شروع کردے تو اس کا نام ظلم ہو جائے گا اور وہ گناہ کہلائےگا۔یا ایک شخص کو دولت دی گئی ہے اور وہ اس کو ناجائز طور سے استعمال کرتا ہے تو وہ مسرف کہلا کرگناہ گار ٹھہرے گا اور جس کو عقل اور دانائی دی گئی ہو وہ اسے غیر محل استعمال کر کے فریب و دغاکرے تو وہ گناہ گار کہلائے گا اسی طرح اعضائے انسانی میں زبان کو، آنکھوں کو ،کانوں کو،ناک کوہاتھوں کو، پاؤں کو غرضیکہ ہر ایک عضو کو غیر محل استعمال کرنے والا گناہ گار ہے اور خدا کے حضورمیں قصور وار۔اور وہ جو میانہ رو ہے اور صراط مستقیم سے ادھر ادھر نہیں ہو تاوہ متقی اور پرہیز گار ہے۔