انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 178

کہ ہم مسیحؑ کی وفات کو مان لیں بلکہ خدا نے اپنے رسول یعنی مسیح موعودؑ کی معرفت ہم سے وعدہ کیاہے کہ اگر اسی جنس کو خریدیں گے جس کو پہلوں نے خرید اتو ہم سے بھی وہی نیک سلوک ہو گا۔پس چاہئے کہ ہم بجائے اس کے کہ مسیحؑ کی وفات کے متعلق قرآن کی آیتیں اور حد یثیں تلاش کریں اور مسیح ؑکو فوت شد ہ ثابت کرنے کی کو شش کریں ہم اپنے نفس کی وفات ثابت کریں اور خدا کی مرضی کے آگے اپنے نفس کو بالکل ہلاک کردیں کیونکہ اگر مسیح ؑکی وفات ثابت کریں تو دنیا کو کوئی ایسا بڑا فائدہ نہیں پہنچ سکتاہاں نفس کی وفات ایک ایسی بات ہے کہ جس کے ثابت ہونے کے بعد دنیا میں اصلاح ہو سکتی ہے۔ہم خدا کے رسول کو مان کر دنیا کے نزدیک تو کافر اور قابل نفرت ٹھہر چکے ہیں ایسا نہ ہو کہ خدا کے نزدیک بھی ہم کافر ہی ٹھہریں اس لئے چاہئے کہ ہر وقت خدا سے ڈر کر کام کریں۔دنیاوی تجارت میں ہم نے اس لئے چھوڑیں کہ ہم دینی تجارت کریں گے اور اس وجہ سےہمارے مخالف ہم سے اس بات میں بڑھ گئے اب اگر دین کی تجارت میں بھی سستی کریں تو پھر خسرالدنيا والأخرة کے مصداق ہو جائیں گے (نعوذ باللہ ) ہم نے بیعت کے وقت خدا سے گویا کہ وعدہ کر لیا ہے کہ ہم دنیا کی جنس نہ خریدیں گے بلکہ ہمیشہ دین کی جنس کو مقدم رکھیں گے پس چاہئےکہ ہمیشہ اس کا خیال رہے انسان کوئی چیز خریدتے وقت دو چار اور تجربہ کاروں کو بھی دکھالیتا ہے کہ آیا اس میں کچھ نقص تو نہیں۔اسی طرح دینی چیزیں خریدنے کے لئے بھی خدا تعالیٰ نے ایسے تجربہ کار عنایت کئے ہیں کہ جو ہمیں ہر ایک چیز کے حسن وقبیح سے آگاہ کر دیتے ہیں اور وہ ہمارے اعضاءہیں مثلا ہاتھ پاؤں دل و دماغ آنکھ کان ناک اور زبان و غیرہ جب کوئی کام ہم ایسا کرتے ہیں جو بری جنس سے ہو تا ہے تو فورا ہمیں یہ اطلاع دیتے ہیں کہ یہ کام عہد کے خلاف ہوا ہے۔قرآن مجید میں ہے ولقد خلقنا الإنسان ونعلم ماتوسوس به نفسه(ق۱۷) میرے خیال میں یہ آیت قرآن شریف کی منجانب اللہ ہونے کا ثبوت ہے کیونکہ اس میں خدا تعالیٰ اس بات کی طرف اشارہ فرماتا ہے کہ قرآن شریف کو میں نے بھیجا ہے جو انسان کا پیدا کرنے والا ہوں اور اس کے کل خیالوں اور وسوسوں کو جانتا ہوں اگر یہ کسی اور شخص یا مخلوق کی طرف سے ہوتا تو اس میں انسان کے دلی خیالات کا اظہار کس طرح ہوتا اور چونکہ اس میں انسان کے کل وسوسوں اور خیالوں کےمتعلق ہدایتیں اور جواب ہیں اس لئے صاف ثابت ہوا کہ اس کا بھیجنے والا میں ہی ہوں جو مخلوقات کارب ہوں۔میں یہ ایک کی کھلی بات ہے جو قرآن شریف اپنے منجانب اللہ ہونے کے بارے میں پیش کرتا ہے انسان کے مختلف و سوسوں کو انسان نہیں جانتا پھر قرآن شریف نے کل