انوارالعلوم (جلد 1) — Page 177
دکھادیا کہ جنہوں نے آپ کے سر پر کانٹے رکھے تھے آخر انہیں کانٹوں کے بستروں پر لوٹنا پڑا اور یہ وہی حضرت عیسیٰؑ و الا وعدہ ہے کہ جس کے طفیل ہم اس وقت یہاں جمع ہو گئے ہیں کیونکہ خداکے فضل سے ہماری گورنمنٹ برطانیہ نے جو ایک عیسائی سلطنت ہے ہمیں مذہبی آزادی دے رکھیہے اور اگر یہ گورنمنٹ نہ ہوتی تو ہم ایسانہ کر سکتے -غرض ان تین و عدوں کا ذکر خداوند تعالیٰ یہاں فرماتا ہے اور بتاتا ہے کہ یہ تین وعدے ہیں جو میں نے کئے ہیں اور ایسے وقت میں کئے ہیں جبکہ ان کے پورے ہونے کا گمان بھی نہیں ہو سکتا تھا تو پھر انسان کیوں میرے وعدوں پر شک لاتا ہے۔دیکھو دنیا میں بار بار یہ نظارہ نظر آیا ہے کہ ایک گداگر کو جب ایک جگہ سے ایک پیسہ بھی مل جائے تو جب وہ اس جگہ سے گذرتا ہے تو صدادیئے بغیر آگے نہیں بڑھتا کیونکہ اسے امید ہوتی ہے کہ خدا تعالٰی کے فضل سے یہاں سے کچھ نہ کچھ ملتی رہے گا اور اس کا پچھلا تجربہ اسے ایسا کرنے پر مجبور کرتاہے تو جب خدا تعالیٰ کے وعدوں کو بار بار پورے ہوتے ہوئے دیکھا گیا ہے اور کبھی وہ خطا نہیں گئےتو پھر کیوں اس کے وعدہ پر اعتبار نہ کیا جائے اور کیوں ہم اس کے دروازہ پر گرے نہ رہیں۔دنیامیں ایک انسان وعدہ کرتا ہے تو ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں اور اس پر اعتبار کرتے ہیں پھر خداکے وعدہ پر کیوں شک لائیں۔انسان کے وعدہ میں تو بہت مشکلات ہیں مثلا جو شخص جھوٹا وعدہ کرتاہے یااب تو اس نے سچے دل سے وعدہ کیا ہے لیکن چند دن کے بعد نیت بدل جائے پھر اگر نیت بھی نہ بدلےتو جن حالات پر اس نے وعدہ کیا تھا وہ حالات بدل جادیں وہ خود فوت ہو جائے یا خود وہ چیز جس کا وعدہ تھا جاتی ہے مگر خدا پر تو یہ گمان بھی نہیں ہو سکتا کہ وہ وعدہ کر کے بدل جائے اور یہ بات بالکل ناممکن ہے کہ اس پر کوئی ابتلاء آئے یا جس چیز کو قائم رکھنا چاہئے وہ ضائع ہو جائے پس انسان کے وعدہ پر تو ہم کو شک کی گنجائش ہے اور بیشک ہو نا چاہئے۔مگر خدا کے وعدہ پر تو شک لانا کفرکی نشانی ہے۔سلطنت کے ایک ادنیٰ ملازم پر ہم یقین کرتے ہیں کہ جو وعدہ اس نے کیا ہے اسے پوراکرے گا۔پھر خدا کےوعدوں پر ہم کیوں کر تردد کریں وہ ہمیشہ زندہ ہے جس پر کوئی زوال نہیں جس کی قدرتوں کو کوئی روک نہیں سکتا جس کے قبضہ میں کل کائنات ہے اور جس کی حکومت ذره ذره پرہے۔پس چاہئے کہ انسان بجائے کسی انسان سے وعدہ لینے کے خدا سے وہ وعدہ لے جس کے پوراہونے میں کوئی شک نہیں ہم سے بھی خداانے اس وقت ایک وعدہ کیا ہے اور اس کا پورا ہو ناہماری کوششوں پر منحصر ہے یہ مت سمجھو کہ یہ کوئی نیا وعدہ ہے۔نہیں بلکہ وہی ہے جس کی نسبت میں نےابھی آیت پڑھی ہے کہ حقافي التورٰة والإنجيل والقران یہ وعدہ ہم سے اس بناء پر نہیں۔