انوارالعلوم (جلد 1) — Page 97
تھا جو کہ لفظ بہ لفظ پورا ہوا۔اور وہ یہ ہے -قل إن صلاتی و نسکی و محیای و مماتی للہ رب العلمين چنانچہ اس کے مطابق حضرت اقدسؑ کی وفات ایک نشان کے طور پر ہوئی۔اور خداکےوجود کو ثابت کرنے والی ہو گئی۔پھر ایک پیشگوئی ہے جس میں موت کی پیشگوئی بھی ہے اور جماعت کوبھی تسلی ہے کہ موت قریب - إن الله يحمل کل حمل یعنی تیری موت قریب ہے۔تو اپنے بعد جماعت کا فکر نہ کر کیونکہ خداوند تعالیٰ وہ تمام بوجھ خود اٹھائے گا۔اس کے ساتھ اور بھی الہامات ہیں جو آپ کی موت کو ظاہر کرتے ہیں۔مگربوجہ طوالت کے میں انکویہاں درج نہیں کرتا۔اب دیکھنا چاہئے کہ حضرت نے آج سے اڑھائی برس پہلے اپنی وصیت شائع کر دی تھی۔اوراس میں صاف طور پر لکھ دیا تھا کہ میرا وقت قریب آگیا ہے اور عنقریب میں تم سے جدا ہو جاؤں گااور خدا کی تقدر پر پوری ہونے والی ہے اور میں انبیاء کی سنت کے مطابق اس طرح فوت ہوں گا کہ لوگ سمجھیں گے کہ ناکامی رہی۔مگر اصل میں ناکامی نہ ہو گی۔اور خدا اپنی پوری طاقت اور جلال کےساتھ میرا نام روشن کرے گا۔اور دنیا پر میری سچائی کو ظاہر کر دے گا۔وہ لوگ جو اس وقت زنده رہیں گے وہ میری سچائی کو آنکھوں سے دیکھیں گے اور یہ وعدہ نہیں ٹلے گاجب تک خون کی ندیاں نہ بہا دی جائیں۔اور عذاب الہی اس وقت تک نازل ہوتے رہیں گے اور مصیبتیں دنیا کو نہیں چھوڑیں گی جب تک کہ خدا کا نام دنیا پر روشن نہ ہو اور جب تک کہ وہ لوگ جو رات دن گناہوں میں پڑے رہتے ہیں اپنے افعال و اقوال سے باز نہ آئیں اور خدا کے لئے اپنے نفس کی قربانی نہ کریں اور خدا کے ارادہ کو اپنے لئے قبول نہ کریں اور میری سچائی پر ایمان نہ لائیں۔کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ خدا کے برگزیدہ نبی محمدمصطفیٰﷺ کو تو مردہ خیال کیا جائے اور عیسی علیہ السلام کو اب تک آسمان پر زنده بہ جسم عنصری مانا جائے۔یہ ایک ایسا گناہ ہے اور ہمارے پاک نبیﷺان کی اس قدر ہتک ہے کہ خداوند تعالیٰ کی غیرت اس کو برداشت نہیں کر سکتی اور ضرور ہےکہ وہ دنیا سے اس شرک کی بیخ کنی کرے۔اور پھر متواتر وحی سے اس بات کی تائید ہوتی رہی اور خداوند تعالیٰ نے بار بار آنے والے واقعہ کی خبردی اور اس طرح کھلم کھلا اعلان کیا گیا کہ دوست تو دوست دشمنوں کو بھی اس سے انکارنہیں ہو سکتا یہاں تک کہ خدا تعالیٰ نے تاریخ اور سال تک بھی مقرر کر دیا۔چنانچہ آپ زندگی والی خواب میں بتا دیا کہ دو تین سال کے اندر اندر ہی آپؑ وفات پائیں گے اور ۲۲۳ دن والی رویا میں۲۹/ مئی اور لیپ ایر بتادیا۔یعنی ۱۹۰۸ء میں۔