انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 41

انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۱ خوف اور امید کا درمیانی راسته بھائی کی یاد میں مریجیے کہنے شروع کر دیئے اور درد اور محبت کی وجہ سے اس کے خیالات ایسا رنگ اختیار کر گئے کہ عرب کے چوٹی کے شاعروں میں شمار ہونے لگی اور اس نے بھائی کی محبت کے جوش میں اتنے اعلیٰ پایہ کے مرییے کہے کہ آج تک عرب کے تمام شاعروں میں اعلیٰ درجہ کی شاعرہ شمار کی جاتی ہے۔اس کے شعروں میں اتنا درد پایا جاتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے جب اس کے شعر سنے تو آپ رو پڑے اور کہنے لگے خنساء اگر مجھے بھی شعر کہنے آتے تو میں بھی اپنے بھائی کا ایسا ہی مرثیہ کہتا۔خنساء نے کہا آپ کیسی باتیں کرتے ہیں آپ کا بھائی خدا تعالیٰ کی راہ میں شہید ہو کر مرا ہے اور اس نے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا ہے خدا کی قسم ! اگر میرا بھائی شہادت پاتا تو میں کبھی اس کا مرثیہ نہ پڑھتی اور کبھی اُس کی وفات پر افسوس کا اظہار نہ کرتی۔اس پر حضرت عمرؓ خاموش ہو گئے۔اب دیکھو بھائی کی قربانی نے کتنا درد پیدا کر دیا تھا کہ ایک عامی عورت کو عظیم الشان شاعرہ بنا دیا اور ایسا کہ آج چودہ سو سال گذرنے کے بعد بھی وہ عرب کی چوٹی کے شاعروں میں شمار کی جاتی ہے۔پس مسلمان بجائے اس کے کہ امرتسر کے ہندوؤں اور سکھوں کا بدلہ راولپنڈی اور ملتان کے ہندوؤں سکھوں سے لیتے انہیں چاہئے تھا کہ وہ اپنے مال لا کر امرتسر کے مظلوم اور مصیبت زدہ مسلمانوں کے سامنے پیش کر دیتے وہ خود تنگی سے گذراہ کر لیتے اور زیادہ سے زیادہ روپیہ جمع کر کے ان کی مدد کرتے اگر وہ ایسا کرتے تو امرتسر کے مسلمانوں کے دلوں میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی اور ان کو اپنے بھائیوں سے محبت ہوتی اور وہ یہ یقین کر لیتے کہ بے شک ہمیں تکلیف پہنچی ہے لیکن ہماری تکلیف میں حصہ لینے والے ہمارے بھائی موجود ہیں اور وہ اس بات کو محسوس کرتے کہ بے شک ہمیں دُکھ پہنچا ہے مگر ہمارے دکھ بانٹنے والے ہمارے بھائی موجود ہیں ان کے اندر دلیری، جرات اور حوصلہ پیدا ہو جاتا مگر افسوس کہ مسلمانوں نے بجائے اس احسن اقدام کے راولپنڈی اور ملتان کے ناکردہ گناہ ہندوؤں اور سکھوں سے امرتسر کا بدلہ لینا شروع کر دیا جو سرا سرنا جائز تھا اور وہ اپنے فاقہ مست بھائیوں کو بالکل بھول گئے۔ان کو یہ احساس تک نہ آیا کہ ہمارے مظلوم بھائی نان شبینہ کے محتاج ہو چکے ہیں ، انہیں ذرا خیال نہ آیا کہ ہمارے مصیبت زدہ بھائی ہمارے ہاتھوں کی طرف دیکھ رہے ہیں، انہوں نے اپنے اس