انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 40

انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۰ خوف اور امید کا درمیانی راسته لا ئی تھی چند دنوں میں ختم ہو گیا اور پھر وہ کوڑی کوڑی کا محتاج ہو گیا ایک دن پھر اسی طرح وہ مغموم شکل بنائے بیٹھا تھا کہ بیوی نے پوچھا کیا بات ہے؟ کہنے لگا سارا مال ختم ہو گیا ہے اب کیسے گذر ہوگی۔خنساء نے کہا جب تک میرا بھائی زندہ ہے تمہیں گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں وہ پھر اسے ساتھ لیکر اپنے بھائی کے پاس پہنچی اور بھائی نے اس دفعہ پہلے کی نسبت بھی زیادہ شاندار ستقبال کیا اور زیادہ شاندار دعوتیں کیں اور چالیس دن دعوتیں کرنے کے بعد اس نے رؤساء کو بلایا اور کہا میری دولت کو ہم دونوں بھائی بہن میں برابر برابر تقسیم کر دو۔وہ پھر آدھی دولت بھائی سے لیکر اپنے خاوند کے ساتھ گھر واپس آئی کچھ عرصہ تک تو خاوند نے شراب اور جوئے سے پر ہیز کیا۔لیکن شراب اور جوئے کی لت ایسی بُری ہوتی ہے کہ اس سے چھٹکارا پانا بہت مشکل ہوتا ہے چنانچہ اُس نے پھر وہی کام شروع کر دیئے اور اس دولت کو بھی اُڑا دیا۔اس دفعہ اس کے دل میں سخت ندامت پیدا ہوئی کہ اب تو میں خود کشی کرلوں گا لیکن کچھ مانگنے کے لئے نہیں جاؤں گا۔خنساء کو جب اپنے خاوند کا یہ ارادہ معلوم ہوا تو اس نے کہا میرا بھائی زندہ ہے تو تمہیں گھبرانے کی کیا ضرورت ہے۔اس نے کہا کہ اب مجھے تمہارے بھائی کے پاس جاتے شرم محسوس ہوتی ہے مگر وہ اسے مجبور کر کے پھر اپنے بھائی کے پاس لے گئی اور بھائی نے پہلے سے بھی زیادہ شاندار استقبال کیا اور کوئی کسر اُن کی خدمت میں اُٹھا نہ رکھی۔اس نے چالیس دن کے بعد پھر رؤساء کو بلایا اور کہا میری بہن پر پھر غربت کی حالت ہے اس لئے میری جائداد کو تقسیم کر کے نصف اسے دے دو۔اس دفعہ اس کی بیوی جو یہ بات سن رہی تھے اس نے اُسے اندر بلایا اور کہا کچھ خدا کا خوف کرو آخر تمہارے بھی بیوی بچے ہیں ان کا کیا بنے گا وہ تو جواری اور شرابی ہے کیا تم اسی طرح اپنی تمام دولت لٹا دو گے؟ خاوند نے کہا تم خاموش رہو میں اگر مر گیا تو تم اور خاوند کر لو گی لیکن میری بہن ہی ہے جو مجھے ساری عمر روئے گی۔غرض بھائی نے پھرا اپنی آدھی دولت بہن کو دے کر رخصت کر دیا۔خنساء گھر پہنچیں تو کچھ عرصہ تک خاوند نے صبر کئے رکھا لیکن اپنی بد عادتوں سے مجبور ہو کر پھر وہی چال اختیار کی اور ساری دولت اُڑا دی۔لیکن تھوڑے ہی عرصہ کے بعد وہ مر گیا اور اُس کی وفات کے کچھ عرصہ بعد خنساء کا بھائی بھی مر گیا اس محبت کرنے والے بھائی کی موت نے خنساء کے دل پر ایسا گہرا زخم لگایا کہ اس نے اپنے