انوارالعلوم (جلد 19) — Page 613
انوار العلوم جلد ۱۹ ۶۱۳ پاکستان ایک اینٹ ہے اُس اِسلامی عمارت کی جسے ہم۔جس ملک کا یہ ٹکڑا ہے وہ ملک زندہ ہے۔اگر سارے ملک کا نام پاکستان ہوتا تو خطرہ کی کوئی صورت نہیں تھی مگر اب تین چوتھائی سے زیادہ حصہ زندہ موجود ہے اور ۴ را کو کاٹ کر الگ کر دیا گیا ہے۔پس پاکستان کے قیام سے خطرات دور نہیں ہوئے بلکہ پہلے سے بڑھ گئے ہیں کیونکہ ہمارا ہمسایہ سمجھتا ہے کہ اسے پاکستان کے قیام سے سخت نقصان پہنچا ہے۔اسی سلسلہ میں بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ مشرقی پنجاب میں مسلمانوں پر جو مظالم ہوئے تھے انہوں نے مسلمانوں میں جذبہ انتقام اتنا شدید طور پر پیدا کر دیا ہے کہ اب مسلمانوں کی طاقت پہلے سے کئی گنا بڑھ گئی ہے۔در حقیقت دنیا میں دو ہی چیزیں طاقت اور قوت کو بڑھاتی ہیں۔جذبہ محبت یا جذبہ انتقام۔مائیں جذبہ محبت کی وجہ سے بعض دفعہ ایسے ایسے کام کر جاتی ہیں جو عام حالات میں بالکل ناممکن نظر آتے ہیں اسی طرح جب کسی کو شدید صدمہ پہنچتا ہے تب بھی اس کے انتقام کا جذ بہ تیز ہو جاتا ہے اسی وجہ سے محبت اور انتقام کے جذبہ کو جنون کہتے ہیں کیونکہ جنون کی حالت میں مجنون کی طاقتیں بہت بڑھ جاتی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جب بدر کی جنگ ہوئی تو مسلمانوں کی طرف سے صرف تین سو تیرہ آدمی اس جنگ میں شریک تھے اور وہ بھی بالکل بے سروسامان اور نا تجربہ کار۔لیکن دشمن کا ایک ہزار سپاہی تھا اور وہ سارے کا سارا تجربہ کار آدمیوں پر مشتمل تھا۔ابھی جنگ شروع نہیں ہوئی تھی کہ ابو جہل نے ایک عرب سردار کو بھجوایا اور اسے کہا کہ تم یہ اندازہ کر کے آؤ کہ مسلمانوں کی تعداد کتنی ہے۔وہ واپس گیا تو اس نے کہا میرا اندازہ یہ ہے کہ مسلمان تین سو یا تین سو پچپیس کے قریب ہیں۔ابو جہل اس پر بہت خوش ہوا اور کہنے لگا ہم نے تو میدان مارلیا۔اس نے کہا اے میری قوم! بے شک مسلمان تھوڑے ہیں لیکن میرا مشورہ یہی ہے کہ مسلمانوں سے لڑائی نہ کرو کیونکہ اے میری قوم! میں نے اونٹوں پر آدمی نہیں بلکہ موتیں سوار دیکھی ہیں یعنی میں نے جس شخص کو بھی دیکھا اس کا چہرہ بتا رہا تھا کہ آج میں نے مرجانا ہے یا مار دینا ہے۔اس کے سوا اور کوئی جذبہ ان کے دلوں میں نہیں پایا جاتا ہے گویا اس جذبہ انتقام نے مسلمانوں کو ایسی طاقت دے دی کہ ایک شدید ترین دشمن اسلام نے بھی ان کے چہروں سے