انوارالعلوم (جلد 19) — Page 612
انوار العلوم جلد ۱۹ پاکستان ایک اینٹ ہے اُس اِسلامی عمارت کی جسے ہم۔۔دشمن ہوشیار ہو کر فائدہ اُٹھا لیتا ہے۔پاکستان کی حالت بھی اس وقت ایسی ہی ہے۔پاکستان نام ہے اس ملک کے ایک ٹکڑے کا جسے پہلے ہندوستان کہا جاتا تھا اور یہ سیدھی بات ہے کہ جب کسی کا کوئی عضو کا ٹا جائے گا تو وہ خوش نہیں ہوگا بلکہ اس میں شدید طور پر منافرت کا جذبہ پیدا ہو جائے گا۔کون شخص یہ خیال بھی کر سکتا ہے کہ کسی کا ناک کاٹ دیا جائے یا کان کاٹ دیا جائے تو وہ اطمینان سے بیٹھا رہے گا اور کہے گا جَزَاكُمُ اللهُ تم نے مجھ پر بڑا احسان کیا ہے۔جب بھی ہم کسی کے جسم کا کوئی عضو کاٹیں گے وہ ضرور تلملائے گا بلکہ اگر عضو کاٹنے کے بعد وہ زندہ رہے گا تو اس موقع کی تلاش میں رہے گا کہ میں دوسرے کو تباہ کر دوں۔اگر تو وہ شخص مر جاتا ہے تب بے شک ہمیں اطمینان ہو سکتا ہے کہ جس شخص کا ہم نے ناک یا کان کا نا تھا وہ مر چکا ہے اب وہ ہم سے انتقام نہیں لے سکتا لیکن اگر وہ زندہ ہے تو لازماً ہر وقت اس کے دل میں اشتعال پیدا ہوتا رہے گا اور وہ خواہش رکھے گا کہ میں اس شخص سے بدلہ لوں جس نے مجھے نقصان پہنچایا ہے۔بعض فتوحات بے شک ایسی ہوتی ہیں جن میں مفتوحہ قو میں بالکل مٹ جاتی ہیں ایسی فتوحات میں دشمن کی طرف سے مقابلہ کا کوئی خطرہ نہیں رہتا۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ کے بعد مسلمانوں نے مصر پر حملہ کیا اور اسے فتح کر لیا۔اس فتح کے بعد کوئی مصری حکومت دنیا میں نہیں رہی تھی جس میں مسلمانوں کے خلاف انتقام کا جذبہ پیدا ہوتا۔اسی طرح مسلمانوں نے جب فلسطین فتح کیا تو فلسطین میں کوئی ایسی حکومت نہیں رہی تھی جو مسلمانوں کے خلاف جذبات انتقام لے کر کھڑی ہو سکتی۔یا جب مسلمانوں نے شام فتح کیا یا عراق فتح کیا تو شام اور عراق میں کوئی ایسی حکومت نہیں رہی تھی جو مسلمانوں کے خلاف انتقامی جذبات رکھتی لیکن ایران اور روم سارے کے سارے فتح نہیں ہوئے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ جب آئندہ خرابی پیدا ہوئی تو وہ شام میں نہیں ہوئی جو سارے کا سارا فتح ہو چکا تھا، وہ مصر میں نہیں ہوئی جو سارے کا سارا فتح ہو چکا تھا وہ عراق میں نہیں ہوئی جو سارے کا سارا فتح ہو چکا تھا بلکہ وہ ایران اور روم میں پیدا ہوئی کیونکہ وہاں ایسی قو میں موجود تھیں جن کے عضو کاٹے گئے تھے۔یہی حالت ہماری ہے پاکستان کوئی نیا ملک نہیں بلکہ ایک ملک کا ٹکڑا کاٹ کر اس کا نام پاکستان رکھ دیا گیا ہے۔