انوارالعلوم (جلد 19) — Page 596
۵۹۶ مسلمانانِ بلوچستان سے ایک اہم خطاب انوار العلوم جلد ۱۹ عمارت بنے گی تب بھی کچھی ہوگی اور وہ اینٹیں ٹکڑے ٹکڑے ہونگی تب بھی کچی ہونگی۔یہ نہیں ہوگا کہ عمارت تو کچی اینٹوں کی بنائی جائے مگر جب وہ مکمل ہو تو بجائے کچی اینٹوں کے پتھروں کی عمارت بن جائے۔اسی طرح فرد مسلمان ہوگا تو ان کا مجموعی نظام حکومت بھی اسلامی ہوگا لیکن اگر فرد مسلمان نہیں ہوگا تو حکومت بھی اسلامی نہیں بن سکتی۔اگر کچی اینٹوں کی عمارت بنانے کے بعد یہ ممکن ہے کہ مکمل ہو کر پکی عمارت بن جائے تو بے شک یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مسلمان فرد تو غیر اسلامی ہو اور حکومت اسلامی ہو لیکن اگر کچی اینٹوں کی عمارت کی نہیں ہوسکتی تو ایسے افراد کے ذریعہ جو خود اسلامی تعلیم پر عمل کرنے کیلئے تیار نہ ہوں ایک اسلامی حکومت کس طرح قائم ہوسکتی ہے۔بہر حال اینٹ کے مطابق عمارت ہوگی جیسی اینٹ ہو گی ویسی ہی عمارت ہوگی۔اس کے علاوہ ایک اور بات جس کی طرف میں دوستوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ دنیا میں بے شک اختلاف بھی ہوتا ہے مگر کچھ مواقع ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں اختلافات کو بالائے طاق رکھ دیا جاتا ہے۔مرغیوں کو دیکھ لو چیل آتی ہے تو وہ اپنے بچوں کو اپنے پیروں کے نیچے اکٹھا کر لیتی ہے، کتے آپس میں لڑ رہے ہوتے ہیں مگر جب کوئی شخص ڈنڈا لے کر آ جائے تو وہ اپنی لڑائی فوراً بھول جاتے ہیں۔جب جانور اپنے اندر اتنی عقل رکھتے ہیں کہ مصیبت کے وقت وہ آپس کی لڑائیوں اور اختلافات کو نظر انداز کر دیتے ہیں تو انسان کو تو بہر حال ان سے زیادہ بہتر نمونہ دکھانا چاہئے۔حضرت علی اور معاویہؓ جب آپس میں لڑ رہے تھے تو روم کے بادشاہ نے ارادہ کیا کہ وہ اس اختلاف سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے مسلمانوں پر حملہ کر دے اور ان کی رہی سہی طاقت کو بھی تو ڑ دے۔جب اس نے اپنے اس ارادہ کا اظہار کیا تو اس کے جرنیل نے اسے کہا کہ آپ نے اگر حملہ کیا تو آپ غلطی کریں گے۔یہ صحیح ہے کہ علی اور معاویہ آپس میں لڑ رہے ہیں مگر آپ کے مقابلہ میں وہ ضرور متحد ہو جائیں گے۔چنانچہ اُس نے چڑیا گھر سے شیر منگوایا اور دو کتے بھی منگوائے اس کے بعد اس نے دونوں کتوں کے آگے گوشت ڈال دیا وہ دونوں آپس میں لڑنے لگ گئے وہ لڑ ہی رہے تھے کہ اس نے پنجرہ میں سے شیر چھوڑ دیا۔کتوں نے جب دیکھا کہ شیر ہم پر حملہ آور ہوا ہے تو وہ دونوں آپس کی لڑائی کو چھوڑ کر شیر کا مقابلہ کرنے لگ گئے۔اس جرنیل