انوارالعلوم (جلد 19) — Page 567
انوار العلوم جلد ۱۹ برداشت نہیں کر سکتے۔۵۶۷ آخر ہم کیا چاہتے ہیں؟ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آمدنوں پر جب تک وہ ڈیڑھ دو ہزار کی نہ ہو جائیں کوئی ٹیکس نہ لگے لیکن ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ زمیندار کے پاس خواہ چار کنال زمین ہو اُس سے معاملہ ضرور وصول کیا جائے اور ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ اس بات پر کوئی اعتراض نہ کرے کیونکہ یہ ایک طبعی بات ہے اور طبعی بات کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہوا کرتی۔ہم چاہتے ہیں کہ کوئی شخص یہ سوال نہ اُٹھائے کہ ایک ایکڑ فی کس میں زمیندار کا گزارہ کس طرح ہوگا اور وہ اپنے بچوں کو تعلیم کس طرح دلائے گا اور وہ اپنے بیماروں کا علاج کس طرح کروائے گا اور اگر کوئی زمیندار زیادہ عقل اور سمجھ کا مالک ہے تو اُسے ایک ہوشیار تا جر پیشہ یا ہوشیار ملا زم کی طرح آگے بڑھنے کا موقع کس طرح ملے گا۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک غیر طبعی سوال ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ ایسے غیر طبعی سوال کوئی نہ اُٹھائے۔سب سے آخر میں ہم یہ چاہتے ہیں کہ کوئی نہ سمجھے کہ ہم کیا چاہتے ہیں کیونکہ اگر لوگوں نے سمجھ لیا کہ ہم کیا چاہتے ہیں تو متضاد باتوں کا دروازہ کھل جائے گا اور متضاد باتوں کا دروازہ کھلنے سے انسان کا دماغ پریشان ہو جاتا اور امن بر باد ہو جاتا ہے۔اصل بات تو یہ ہے کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ جو کچھ ہم چاہتے ہیں وہ ہو جائے اور دوسروں کے دلوں میں یا تو خواہش پیدا ہی نہ ہو اور اگر پیدا ہو تو ہمارے حق میں ہو اور اگر ہمارے خلاف ہو تو اُس کو سننے والا کوئی نہ ہو بلکہ جو کوئی ہمارے خلاف بات کرے اُس کے وعظ میں گڑ بڑ پیدا کی جائے اور اُس پر اور اُس کے ساتھیوں پر سنگ باری کی جائے کیونکہ عقل کی باتوں کو سننے کا موقع دینا دین کو کمزور کرتا ہے اور شریعت کو کھو کھلا بناتا ہے۔پس ہم یہ چاہتے ہیں کہ لوگ علم سے بے بہرہ رہیں اور عقل سے کو رے رہیں تا کہ وہ یہی سمجھتے رہیں کہ ہم اُن کے خیر خواہ ہیں اور اس سے بہتر امن کا ذریعہ اور کیا ہوگا کہ ہم جس طرح چاہیں ترقی کریں اور دوسرے لوگ ہماری ہر زیادتی اور ہمارے ہر ظلم کے متعلق یہ سمجھیں کہ اسی میں اُن کی خیر خواہی ہے جس خوش نصیب ملک کو یہ بات نصیب ہو اُس کا امن بھی کبھی برباد ہوسکتا ہے؟ ( الفضل ۱۵ رمئی ۱۹۴۸ء )