انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 566 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 566

انوار العلوم جلد ۱۹۔آخر ہم کیا چاہتے ہیں؟ ہم اگر اخبار والے ہیں تو ہم چاہتے ہیں کہ اخبار کے ذمہ وار کا رکن کی ابتدائی تنخواہ تین سو سے کم نہ ہو۔ہزار بارہ سو ہو جائے تو کوئی حرج نہیں لیکن ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ دنیا میں مساوات جاری رہے اور اس لئے زمیندار کو ایک ایکڑ سے زیادہ فی کس نہ ملے۔بیشک ایک ایکٹر فی کس ملنے کے یہ معنی ہوں گے کہ دو یا تین روپیہ مہینہ اس کو ملے گا لیکن زمینداروں کو یہ تو سوچنا چاہئے کہ اگر ہم تین سو یا چار سو یا پانچ کو حاصل کرتے ہیں تو ہم اپنا وقت بھی تو زمینداروں کی خدمت کیلئے وقف کرتے ہیں۔اگر ہمارے لئے ترقی کے راستے کھلے ہوتے ہیں ہم اپنے لڑکوں کو بی۔اے ، ایم۔اے کروا سکتے ہیں۔تحصیلدار، ای۔اے۔سی ، ڈاکٹر ، وکیل، لیفٹیننٹ بنوا سکتے ہیں تو اس بات کا خیال زمینداروں کو نہیں کرنا چاہئے کیونکہ آخر ہم ہی تو مساوات کا اعلان کرتے ہیں اگر ہم نہ ہوں تو مساوات کا اعلان کرنے والا دنیا میں کون رہ جاتا ہے۔ہم بے شک بڑے زمیندار ہیں لیکن ہم کمیونزم کی تائید کرتے ہیں۔بے شک ہماری جائدادیں کافی ہیں لیکن دنیا کا جو بوجھ ہمارے سر پر ہے اس کے ہوتے ہوئے اس قدر آرام تو ہمیں ملنا چاہئے۔غریب زمیندار کی تائید میں آواز اُٹھانے کے بعد جو خلش ہمارے دلوں میں پیدا ہوتی ہے، جس پراگندگی سے ہمارے دماغوں کو دو چار ہونا پڑتا ہے اُس کے بعد پچاس ساٹھ یا سو مربع کا ہمارے پاس ہونا کوئی ایسی بات نہیں جس پر اعتراض کیا جا سکے اور جس سے مساوات میں فرق پڑے۔ہم تاجر ہیں اور ہم کارخانہ دار ہیں ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے کارخانے ہمارے پاس رہیں۔ہمارے بنک کا اکا ؤنٹ خدا کرے دن بدن بڑھے۔ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ان کاموں میں کوئی دخل نہ دے لیکن ساتھ ہی ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے زمیندار بھائیوں میں مساواتِ اسلامی جاری کی جائے اور ایک ایک ایکڑ فی کس دے کر دین و دنیا کی بادشاہت ان کو بخش دی جائے۔ہم یہ کبھی نہیں دیکھ سکتے کہ کسی زمیندار کے پاس زیادہ زمین ہو اور کسی کے پاس کم۔باقی رہا یہ کہ ہم میں سے کوئی لاکھ پتی ہے یا کروڑ پتی یہ بالکل اور بات ہے۔لائق آدمی زیادہ کما لیتا ہے اور نالائق آدمی زیادہ کما نہیں سکتا۔یہ تو ایک طبعی مساوات ہے اس کو عدم مساوات نہیں کہا جا سکتا ہاں زمین کا کم و بیش ہونا بے شک عدم مساوات ہے اور اس کو ہم