انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 453 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 453

انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۵۳ قیام پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں نحر سے اونٹ کی قربانی مراد نہیں بلکہ اپنی اور صحابہ کی قربانی پیش کرنا مراد ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نہ صرف دعائیں کر بلکہ اپنی اور اپنے صحابہ کی قربانی بھی پیش کر کیونکہ جس اعلیٰ مقصد کے لئے تو کھڑا ہوا ہے شیطان اُسے کبھی بھی آسانی کے ساتھ پورا نہیں ہونے دے گا۔دشمن پورا زور لگائے گا کہ ہم نے جو کوثر تجھے بخشا ہے اس میں تو ناکام رہے اس لئے تیرا کام یہ ہے کہ تو جس طرح انسان بکرے یا اونٹ یا گائے کی قربانی سے نہیں ڈرتا اسی طرح تُو بھی اس راہ میں نڈر ہو کر اپنی قربانی کو پیش کر اور اپنے رشتہ داروں اور اپنے صحابہ کی قربانی بھی پیش کر۔إن شَانِئَكَ هُوَ الابتر اگر تو اس طرح قربانی کرتا چلا جائے گا اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ دشمن جو آج تجھے مٹانے کی کوشش کر رہا ہے خود مٹ جائے گا اور بجائے اسکے کہ تجھے نابود کرے اور خود نابود ہو جائے گا۔دیکھو یہ ساری باتیں ایسی ہیں جو آپس میں ملتی ہیں اور ان معنوں کے رو سے اس آیت کا ہر ٹکڑہ دوسرے ٹکڑہ کے ساتھ نہایت گہرا تعلق رکھتا ہے۔درحقیقت اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے البی سلسلوں کے قائم ہونے کا طریق بتایا ہے اور فرماتا ہے کہ جب بھی کوئی سچائی قائم ہوگی دشمن اُس کو مٹانے کی پوری کوشش کرے گا۔ایسی حالت میں دشمن کو اس کی کوششوں میں نا کام کرنے کا ایک طریق تو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ سے دعائیں کی جائیں اور اُس سے مدد اور نصرت طلب کی جائے اور دوسرا طریق یہ ہے کہ دین کی حفاظت اور سچائی کی اشاعت کے لئے ہر قسم کی قربانیاں پیش کی جائیں، نتیجہ یقیناً تمہارے حق میں نکلے گا اور تمہارا دشمن ناکام و نا مرا در ہے گا۔گویا اگر فصل الربك واحد پر عمل کیا جائے تو ان شانِئَكَ هُوَ ا لا بتر کا ظہور بالکل قطعی اور یقینی ہوتا ہے اور جنگوں کے متعلق تو لوگ کہتے ہیں کہ ” جنگ دارد یعنی جنگ کے متعلق یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا ، اس میں فتح بھی ہو سکتی ہے اور اس میں شکست بھی ہو سکتی ہے۔مگر وہ جنگ جو خدا تعالیٰ کی خاطر لڑی جائے اور جس میں فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرُ کے مطابق دعاؤں سے بھی کام لیا جائے اور قربانیوں سے بھی کام لیا جائے اس کا نتیجہ بالکل قطعی اور یقینی ہوتا ہے کہ دشمن مارا جاتا ہے اور وہ تباہ اور برباد ہو جاتا ہے۔دو سر اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس بات پر عمل کرنے کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا