انوارالعلوم (جلد 19) — Page 406
انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۰۶ تقریر جلسه سالانه ۲۸ ؍ دسمبر ۱۹۴۷ء ہے کہ دشمن کی فوج سے بھاگ کر میں ایک دوسرے ملک میں چلا گیا اور وہاں پہنچ کر میں نے مقابلہ کیلئے تنظیم کی۔اس خواب کا ایک عجیب پہلو یہ ہے کہ لاہور میں ہی میں نے یہ خواب دیکھی تھی اور اب تنظیم کیلئے بھی میں لاہور میں ہی آیا ہوں۔پھر ایک اور عجیب بات جو حیرت میں ڈالتی ہے یہ ہے کہ ہمارے آدمیوں نے اُس وقت جو جلسہ گاہ تجویز کیا وہ یہی پٹیالہ ہاؤس کی زمین تھی جس میں اس وقت ہمارا سالانہ جلسہ ہو رہا ہے اور یہی گھر اُس وقت ہمارے سامنے تھے جن میں اب ہمارے دفاتر وغیرہ ہیں اور یہی وہ جگہ تھی جہاں میں نے بارہ ہزار کے مجمع کو اپنی خواب سنائی۔اب قادیان سے جب ہمیں ہجرت کرنی پڑی اور لاہور آئے تو اُس وقت گورنمنٹ بھی مہاجرین کو مکانات بانٹ رہی تھی۔میں نے بھی کوشش کی کہ ہمیں کوئی مکان مل جائے مگر اتفاق کی بات ہے ہمیں اپنی رہائش کی وہیں جگہ ملی جہاں ۱۲ مارچ ۱۹۴۴ء کو جلسہ کر کے میں نے اپنی خواب کا اعلان کیا تھا اور اب اُسی مقام پر کھڑے ہو کر میں اپنی اُس خواب کے پورا ہونے کا اعلان کر رہا ہوں۔اس کے علاوہ ہمارے قادیان سے نکلنے ، دشمن کے فساد کرنے اور حلقہ مسجد مبارک کے سوا اور تمام مقامات پر اُس کے غالب آجانے کی اللہ تعالیٰ نے مجھے ۱۹۴۱ء میں ہی خبر دے دی تھی اور پھر ایک خطبہ میں میں نے بیان کی تھی اور ۲۱ / دسمبر ۱۹۴۱ ء کے الفضل میں شائع ہو چکی ہے۔میں یہ خواب لفظاً لفظ سنا دیتا ہوں تا کہ پتہ لگے کہ کتنے واضح طور پر اللہ تعالیٰ نے ان تمام واقعات کی ہمیں قبل از وقت خبر دے دی تھی۔میں نے دیکھا کہ میں ایک مکان میں ہوں جو ہمارے مکانوں سے جنوب کی طرف ہے اور اس میں ایک بڑی بھاری عمارت ہے جو کئی منزلوں میں ہے اس کئی منزلہ عمارت میں میں بھی ہوں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ یکدم غنیم حملہ کر کے آ گیا ہے اور اس غنیم کے حملہ کے مقابلہ کے لئے ہم لوگ تیاری کر رہے ہیں۔میں اس وقت اپنے آپ کو کوئی کام کرتے نہیں دیکھتا مگر میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ میں بھی لڑائی میں شامل ہوں یوں اس وقت میں نے نہ تو تو پیں دیکھی ہیں نہ کوئی اور سامان جنگ، مگر میں سمجھتا بھی ہوں کہ تمام قسم کے آلات حرب استعمال کئے جا رہے