انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 405 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 405

انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۰۵ تقریر جلسه سالانه ۲۸ دسمبر ۱۹۴۷ء کی کوشش کروں پھر آپ کا ایک اور رویا بھی ہے۔آپ فرماتے ہیں:۔ایک دفعہ میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک شخص میرا نام لکھ رہا ہے تو آدھا نام اُس نے عربی میں لکھا ہے اور آدھا انگریزی میں لکھا ہے۔۱۸ میں بتا چکا ہوں کہ آپ نے یہ وضاحت فرمائی ہے کہ بعض پیشگوئیاں میری اولاد کے ہاتھ پر پوری ہونگی۔اس لحاظ سے اس رویا کی تعبیر یہ تھی کہ میری خلافت کا زمانہ دوحصوں میں تقسیم ہوگا۔کچھ حصہ میری خلافت کا انگریزوں کی ماتحتی میں گزرے گا اور کچھ حصہ عربی زبان سے تعلق رکھنے والوں یعنی مسلمانوں کے ماتحت گزرے گا۔اسی طرح آئینہ کمالات اسلام کی پیشگوئی بڑی واضح ہے یہ پیشگوئی آئینہ کمالات اسلام کے صفحہ ۵۷۸ تا ۵۸۰ میں درج ہے میں اس وقت اس کا خلاصہ سنا دیتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں۔میں گھوڑے پر کہیں جانے کیلئے تیار ہوا جب با ہر نکلا تو ایک لشکر دیکھا جو میری تباہی کیلئے نکلا ہے لیکن میں نے اس کی پرواہ نہیں کی اور اپنے کام پر چلا گیا۔اس کے بعد میں نے دیکھا ( گویا لوٹ کر ) کہ ہزاروں آدمی فسادیوں کے لباس میں مشرکانہ چہروں والے میرے باغ کو کاٹنے کیلئے باغ کی طرف گئے ہیں اور میں سمجھا کہ یہ میری جائداد کو برباد کر دیں گے اور میری ساری زمین دشمنوں سے بھر گئی اور اس کا وطن بن گئی اور میں نے اُس وقت محسوس کیا کہ میں بے بس اور ضعیف ہوں لیکن میں بڑھا کہ حقیقت حال معلوم کروں تب میں نے دیکھا کہ سب کے سب وہاں مرے پڑے تھے جس پر میں نے خدا تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا۔19 پس ہما را قادیان سے نکلنا اور ہجرت کرنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں کے عین مطابق ہے اس کے علاوہ خود میرے کشوف اور الہامات بھی صریح طور پر ان واقعات کی خبر دے رہے تھے۔چنانچہ ۱۹۴۴ء میں میں لاہور میں تھا کہ مجھے خدا نے بتایا کہ وہ موعود دلر کا جس کی بانی سلسلہ احمدیہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دی گئی تھی وہ میں ہی ہوں۔یہ خواب میں نے قادیان میں جا کر سنا دی اور پھر لاہور میں ۱۲؍ مارچ ۱۹۴۴ء کو جلسہ کر کے ۱۲ ہزار کے مجمع کے سامنے میں نے اپنی یہ خواب سنائی۔اس خواب میں وضا حنا یہ ذکر آتا