انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 19

انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۹ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب کی خوبیاں اور اُن کا پس منظر اقتصادی مفاد کیلئے کیا جائے اور وہ بظاہر حسین نظر آتا ہو تو وہ فعل حسن تو ضرور کہلائے گا لیکن اخلاق فاضلہ نہیں کہلا سکتا۔پس عربوں کے اندر مہمان نوازی کا پایا جانا خدا کے لئے یا خلق خدا کی خدمت کیلئے نہ تھا بلکہ وہ ان کے مخصوص حالات کے ماتحت تھا اور وہ اس کے لئے مجبور تھے۔بے شک ان کا یہ فعل خوبصورت نظر آتا ہے اور ہے بھی خوبصورت لیکن اس کے اندر نیکی کا پہلو نہیں ہے اسی طرح عربوں کے اندر پناہ دینے کا رواج تھا مگر وہ بھی کسی دباؤ کے ماتحت اور مختلف اغراض کو اپنے اندر لئے ہوئے تھا۔ہمارے ملک کے اندر جنگلات پائے جاتے ہیں چور یا ڈا کو پناہ لینے کے لئے اور پولیس کی نظروں سے بچنے کے لئے جنگلات میں چلے جاتے ہیں یا بڑے بڑے شہروں میں چھپ جاتے ہیں جہاں کئی کئی ماہ تک پولیس ان کا سراغ لگاتی رہے تو بھی نا کام رہتی ہے لیکن عرب کی یہ حالت تھی کہ ہر قبیلہ الگ الگ رہتا تھا۔ہمارے ملک میں تو یہ حالت ہے کہ جس بڑے شہر میں چلے جاؤ وہاں یہی نظر آئے گا کہ ایک گھر گجرات کے کسی شخص کا ہے، دوسرا سیالکوٹ سے آکر رہ رہا ہے، تیسرا مدراس کا آدمی بسلسلہ ملازمت رہتا ہے، چوتھا بمبئی کا آدمی تجارت کی غرض سے آیا ہوا ہے، پانچوں کلکتہ کا ہے گویا ہمارے شہروں کی آبادی اس طرح مخلوط ہوتی ہے کہ اگر کوئی اجنبی کسی کے پاس آ کر ٹھہر جائے تو پتہ ہی نہیں لگ سکتا۔لیکن عربوں کی حالت اس سے بالکل مختلف تھی وہ قبیلہ وار رہتے تھے اور جب کوئی غیر شخص آ جاتا تھا تو وہ کہتے تھے یہ غیر ہے ان لوگوں میں چونکہ لوٹ مار اور جھگڑے ہوتے رہتے تھے اس لئے انہوں نے سمجھ لیا تھا کہ جب کوئی مجرم کر کے کسی کے پاس پہنچ جائے تو وہ اسے پناہ دے تا کہ کل کو ہم اس کے ہاں پناہ لے سکیں۔عرب کی لڑائیاں تو مشہور ہیں اور معمولی معمولی باتوں پر قبائل آپس میں اُلجھ جاتے تھے اور کئی کئی سال تک آپس میں جنگیں ہوتی رہتی تھیں اسی طرح عرب کی ایک مشہور جنگ جو عرصۂ دراز تک جاری رہی اس کا آغاز اس طرح ہوا کہ کسی شخص کے کھیت میں ایک کتیا نے بچے دیئے اور کسی دوسرے کی اونٹی چرتے چراتے ادھر سے گزری اور اس کے پاؤں کے نیچے آ کر کتیا کا ایک بچہ مارا گیا۔کھیت والے نے یہ سمجھ کر کہ یہ کتیا میری پناہ میں تھی جھٹ اونٹنی پر حملہ کر کے اس کی کونچیں کاٹ دیں۔اونٹنی کے مالک نے جب دیکھا کہ میری اونٹنی کو مارا گیا ہے تو اس