انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 394 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 394

انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۹۴ تقریر جلسه سالانه ۲۸ / دسمبر ۱۹۴۷ء وقت وہ خود کوئی نیا مذ ہب نکالنا چاہتے تھے۔میں نے ان سے کہا کہ پہلے لوگ بھی ایسی کوششوں میں ناکام رہے ہیں اور اگر آپ نے بھی کوئی نیا مذ ہب نکالنا چاہا تو اس میں ناکامی کا منہ دیکھیں گے۔آخر ہیں دن کے بعد اُنہوں نے بیعت کر لی۔وہ کہتے ہیں جب تک میں قادیان میں رہا مجھے اسلام اور احمدیت کی محبت کا کچھ زیادہ احساس نہیں ہوا لیکن جب میں باہر گیا تو یکدم محسوس ہوا کہ میں اس سے پہلے ایک ایسی فضا میں تھا جو روحانی نقطہ نگاہ سے نہایت حسین اور خوبصورت تھی۔اس طرح ہوتے ہوتے اسلام کی محبت ان کے دل میں بڑھتی چلی گئی اور وہ قرآن کریم کے احکام پر عمل کرنے لگے۔وہ نماز بہت با قاعدگی کے ساتھ ادا کرتے ہیں بلکہ بہت سے مسلمانوں کیلئے یہ بات شرم کا موجب ہونی چاہئے کہ وہ تہجد بھی باقاعدہ ادا کرتے ہیں۔ایک انگریز کیلئے اپنی گزشتہ عادات کو ترک کر کے ایک نئے مذہب کی تعلیم پر عمل کرنا کتنا مشکل ہے مگر پھر بھی وہ بڑی سختی سے اسلامی تعلیم پر کار بند ہیں۔یہ صرف ایک مثال ہے جو انگلستان کے لوگوں میں پائی جاتی ہے۔باقی لوگ اچھے ہیں، مخلص ہیں مگر ابھی تک اسلام پر پوری طرح عمل کرنے کیلئے تیار نہیں ہوئے۔امریکہ کے لوگوں میں عمل کی قوت زیادہ پائی جاتی ہے وہ چندے بھی ہزار ہاڈالر دیتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ قربانی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ہماری جماعت جنگ سے پہلے پولینڈ میں بھی تھی اور ہنگری میں بھی۔پولینڈ میں کم اور ہنگری میں زیادہ۔ہم سمجھتے تھے کہ جنگ کے دنوں میں یہ جماعتیں ختم ہوگئی ہوگی مگر خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کل اچانک ایک خط ملا جس پر بوڈا پسٹ لکھا ہوا تھا۔میں نے اسے جلدی سے کھولا تو اس کے اندر لکھا تھا کہ آپ شاید ہمیں بھول گئے ہوں گے میں اُن کو مسلموں میں سے ایک ہوں جو آپ کے مشنری کے ذریعہ اس ملک میں مسلمان ہوئے۔اب جو دھکا جنگ کے ذریعہ ہمارے ملک کو لگا ہے اس سے یہ زمین اسلام کی ترقی کیلئے خاص طور پر تیار ہو گئی ہے۔اگر آپ یہاں اپنا مبلغ بھیجیں اور لٹریچر بھی بھجوائیں تو میں سمجھتا ہوں کہ آگے سے بہت زیادہ انگریز اسلام کی طرف توجہ کریں گے۔شام و فلسطین شام اور فلسطین میں بھی ہماری جماعت اچھی ترقی کر رہی ہے۔ایران میں لٹریچر کی اشاعت کے ذریعہ لوگوں میں بہت بیداری پائی جاتی ہے۔