انوارالعلوم (جلد 19) — Page 348
انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۴۸ الفضل کے اداریہ جات انڈین نیشنل کانگرس کا رکن بن گیا۔کئی بار جیل کی صعوبتیں اُٹھا ئیں۔وہ ۱۹۲۴ ء تا ۱۹۲۸ء میں احمد آباد میں رئیس بلدیہ رہا اور ۱۹۳۱ء میں انڈین نیشنل کانگرس کا صدر بنا۔۱۹۴۷ء میں نائب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ بنا اور وفات تک ان عہدوں پر فائز رہا۔(اُردو جامع انسائیکلو پیڈیا جلد اصفحہ ۳۲۳_۳۲۴ مطبوعہ لا ہور۱۹۸۷ء) کا اکبر، جلال الدین محمد بن ہمایوں ( ۱۵ / اکتوبر ۱۵۴۵ء۔۱۶/ اکتوبر ۱۶۰۵) اکبر کے انتظامات سلطنت ہند سنبھالتے ہی فتوحات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔راجپوتانے کے اکثر راجہ خود ہی فرمانبردار ہو گئے۔صرف میواڑ نے مقابلے کی ٹھانی اور نقصان اُٹھایا۔اس نے سلطنت کو اٹھارہ صوبوں میں تقسیم کیا اور ہر صوبے میں یکساں نظام جاری کیا۔اس کے عہد میں علوم وفنون نے بے حد ترقی کی۔ایران کے بڑے بڑے شاعر یہاں آئے اور اعلیٰ منصب پائے۔اس کا شمار دنیا کے بڑے بادشاہوں میں ہوتا ہے۔اُردو جامع انسائیکلو پیڈیا جلد اصفحہ ۱۱۵ مطبوعہ لا ہور ۱۹۸۷ء) ۱۸ سید احمد سرهندی (۲۶ / جون ۶۱۵۶۴ - ۱۰ / دسمبر ۱۶۲۴ء) برصغیر کے ممتاز عالم دین۔پیدائش سرہند کنیت ابوالبرکات۔لقب بدرالدین اور نام شیخ احمد تھا۔شجرۂ نسب ۲۸ واسطوں سے حضرت عمرؓ سے ملتا ہے۔ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی اور قرآن حفظ کیا۔پھر مولانا کمال کشمیری اور مولانا یعقوب کشمیری سے فیض حاصل کیا اور فقہ اور حدیث پر عبور حاصل کیا۔سترہ برس کی عمر میں درس و تدریس شروع کی۔انہوں نے عربی اور فارسی میں متعد در سالے رکھے۔انہوں نے حضرت خواجہ باقی باللہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔خواجہ صاحب نے جلد ہی انہیں خلافت سے نوازا۔انہوں نے اکبر اعظم کے خودساختہ دین الہی کی بیخ کنی میں اہم کردار ادا کیا اور اسی وجہ سے ایک سال تک قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔(اُردو جامع انسائیکلو پیڈیا جلد ۲ صفحه ۱۴۱۲۔مطبوعہ لا ہور ۱۹۸۸ء) 19 سید احمد شہید۔بریلوی (۱۷۸۶ء۔۱۸۳۱ ء ) ان کا سلسلہ نسب حضرت امام حسین تک جاتا ہے۔بالغ ہو کر حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی کے ہاتھ پر بیعت کی۔دہلی میں اور ہندوستان کے مختلف شہروں میں تبلیغ و تربیت کا کام کیا۔۱۸۲۱ء میں حج کیا اور عرب میں