انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 334 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 334

انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۳۴ الفضل کے اداریہ جات ہوگی۔اس کے معنی یہ ہوں گے کہ پاکستان اپنی سرحد پر مشرقی پنجاب کے ایجنٹوں کو بسا دے گا اور مسلمان بہر حال پاکستان کی سرحد سے اڑھائی سو میل کے فاصلہ پر رہے گا۔یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ایک طرف ہندوؤں سکھوں کو بسانا اور دوسری طرف اُن پر بدظنی کرنا کس طرح جائز ہو سکتا ہے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ہندوستان یونین کے مسلمانوں پر اُس وقت تک اعتبار نہ کرنا جب تک وہ لیگ کی دو قوموں کی پالیسی کو بُرا بھلا نہ کہیں اور اگر وہاں کے مسلمانوں کی تلاشیاں لینا اور اُن کو خود مسٹر گاندھی تک کا کہنا کہ ایسے مسلمانوں کی اقلیت اپنے سے نو گنے تعداد والی اکثریت کا ڈر نکالنے اور ان سور ماؤں کو اطمینان دلانے کے لئے چھوٹا چاقو بھی اپنے پاس نہ رکھے ، بدظنی نہیں تو ایسی تدبیر کے خلاف کہ دتی جو معاہدہ انخلاء میں شامل نہ تھا اس کی آبادی کی بناء پر لاہور اور ماڈل ٹاؤن کی آبادی کا سوال اُٹھانا اور امرتسر اور گورداسپور کو بھول جانا ہمارے کان کھڑے ہو جانے پر بدظنی نہیں عقلمندی ہے۔آخر کیوں امرتسر اور گورداسپور کے اضلاع نہ آباد کئے جائیں اور لاہور کو آباد کیا جائے۔اگر پاکستان کی سرحد کو ہندوؤں اور سکھوں سے آبا د کرنا ہے تو لازماً ہندوستان کی سرحد کو بھی مسلمانوں سے آباد کرنا ہوگا اور اگر کسی۔تدبیر سے اس سوال کو پیچھے ڈالا گیا تو عقل مطالبہ کرے گی کہ ہوشیار باش و نگہ دار۔غرض اگر اسلامی اخلاق سے کام لے کر ہندوؤں اور سکھوں کو سارے ملک میں بسایا جائے تو یہ اور بات ہے لیکن باہمی سودے کے ساتھ اور اصول تعاون کی شکل دے کر ایک فریق کو لاہور میں اور دوسرے فریق کو دلّی میں بسایا جائے تو یہ ہرگز سودا نہیں۔اول تو دتی کا مسلمان اس سودے میں شامل ہی نہیں ، جو بدل نہیں اُس کو قیمت کے طور پر پیش کرنے کا سوال ہی نہیں دوسرے لاہور پاکستان کی سرحد پر واقعہ ہے اور دتی پاکستان کی سرحد سے دو سومیل پرے ہے۔دونوں کو آباد کرنے میں دور کی بھی مشابہت نہیں۔پھر بعض لوگ یہ سوال کر دیں گے کہ لکھنؤ کے مسلمانوں کو کچھ لوگ اُجاڑنے لگے تھے ہندوستان یونین کے بعض با اخلاق لوگ لکھنؤ کے لوگوں کو اُجڑنے سے روکنے لگے اس کے بدلہ میں سیالکوٹ اور گوجرانوالہ میں سکھوں اور ہندوؤں کو بسا دیا جائے۔پھر یہ سوال پیدا ہوگا کہ الہ آباد کے مسلمانوں کو کچھ فسادی اُجاڑ نے لگے تھے ہندوستان یونین کے بعض با اخلاق لوگ اُن کو بسانے کے لئے تیار ہو گئے۔