انوارالعلوم (جلد 19) — Page 322
انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۲۲ الفضل کے اداریہ جات فیصلہ دے اُسے پاکستان میں ملنے کی اجازت دی جائے یا آزاد ہونے کی اجازت دی جائے اور جو علاقہ ہندوستان سے ملنے کا فیصلہ کرے اُس کو ہندوستان سے ملنے کی اجازت دی جائے۔یہی ایک جائز اور منصفانہ طریق فیصلہ کا ہے چونکہ صحیح آراء شماری اُس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک کہ نئے آئے ہوئے آدمیوں کو کشمیر سے نکالا نہ جائے اور پرانے بھاگے ہوئے لوگوں کو واپس لا کر بسایا نہ جائے اس لئے لازماً مردم شماری سے پہلے پانچ چھ مہینے کا وقفہ دینا ضروری ہوگا۔اور یہ پانچ چھ مہینے کا وقفہ اگر کسی غیر جانبدار حکومت کے ماتحت نہ دیا گیا تو یہ کام کبھی بھی صحیح طور پر تکمیل تک نہ پہنچے گا۔پس نہ صرف یہ ضروری ہے کہ آراء شماری ایک آزاد کمیشن کے ما تحت ہو بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ایک غیر جانبدار حکومت فوراً کشمیر میں قائم کر دی جائے جو چھ مہینے کے عرصہ میں تمام نئے آئے ہوئے لوگوں کو کشمیر اور جموں سے نکال دے اور پرانے باشندوں میں سے بھاگے ہوئے لوگوں کو واپس بلا کر اپنے اپنے علاقوں میں بسائے تب اور صرف تب آراء شماری ملک کی حقیقی رائے کا آئینہ ہوگی۔بلکہ ہمارے نزدیک یہ بھی ضروری ہونا چاہئے کہ قریب میں جو مردم شماری ہو چکی ہے اُس کے مطابق مسلمانوں اور ہندوؤں کو حق دیا جائے کیونکہ وہ لاکھوں مسلمان جو جموں میں مار دیا گیا ہے، انہوں نے مسلمانوں کی مردم شماری کو اور بھی کم کر دیا ہے۔اگر کسی قوم کے افراد کو مار کر رائے شماری لینا انصاف کا طریقہ ہو سکتا ہے تو پھر مسلمانوں کو بھی موقع دیا جائے کہ وہ بھی دو تین مہینہ کے عرصہ میں جموں سے ہندوؤں کا خاتمہ کر لیں تو اُس کے بعد رائے شماری کی جائے۔مصنوعی حالات کے ماتحت مردم شماری ہرگز جائز اور درست نہیں ہوسکتی۔پس اگر آٹھ لاکھ مسلمانوں میں سے آج ایک لاکھ رہ گیا ہے تو یہ نہیں سمجھا جائے گا کہ جموں کے دس لاکھ ہندوؤں کے مقابلہ میں ایک لاکھ مسلمان ہے بلکہ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اگر گزشتہ مردم شماری میں جموں کے صوبہ میں دس لاکھ ہندو تھا اور آٹھ لاکھ مسلمان تھا تو سات لاکھ مسلمانوں کے مار دینے کی وجہ سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ اب گیارہ افراد میں سے دس ہندو ہیں۔بلکہ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ قاتلوں کو اُن کے جرم کی سزا ملے نہ کہ مظلوموں کو اُن کی مظلومیت کی۔یہ کوئی انصاف نہیں کہ پہلے ایک قوم کو قتل کر دیا جائے پھر اُس کو اقلیت والے حقوق دے دیئے جائیں پس چاہئے تو یہ کہ ظالم قوم کو خواہ وہ اکثریت میں