انوارالعلوم (جلد 19) — Page 286
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۸۶ الفضل کے اداریہ جات آزاد نہ کیا جائے ، افراد میں آزادی کی روح پیدا ہی نہیں ہوسکتی۔ہر شخص کو معلوم ہونا چاہئے کہ وہ قضاء کے ذریعہ سے اپنا حق لے سکتا ہے اور ہر افسر کو محسوس ہونا چاہئے کہ اگر وہ کسی کا حق مارے گا تو اسے اس کی جواب دہی بھی کرنی پڑے گی۔ان امور اور ایسے ہی کئی امور کے متعلق حکومت فوری کارروائی کر سکتی تھی لیکن ہوا یہ کہ وہی پرانے قانون اور وہی پرانے طریق باقی رہے اور ابھی تک ملک کے باشندوں نے پوری طرح یہ بھی محسوس نہیں کیا کہ ان کا ملک آزاد ہو چکا ہے۔پس ہمارے نزدیک دونوں فریق کی غلطی تھی۔اس نقص کی اصلاح کا یہ بھی ایک طریقہ تھا کہ مسلم لیگ کے عہدے ایسے لوگوں کو دیئے جاتے جو وزارت کے ممبر نہ ہوتے۔۱۶ تاریخ کو یہ نیک قدم اٹھایا گیا ہے ہمیں اس سے تعلق نہیں کہ کون صدر ہوا ہے کون نہیں۔ہم یہ جانتے ہیں کہ ملک کے فائدہ کے لئے یہ ضروری ہے کہ ملک کی سیاسی انجمن پر ملک کے وزراء قابض نہ ہوں لیکن جس طرح یہ ضروری ہے اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ ملک کی آئین ساز مجلس ملک کی وزارت اور اس کے افسروں کے معاملات میں دخل اندازی نہ کرے۔ان تین آزاد یا نیم آزاد اداروں کے باہمی تعاونوں سے ہی ملک کی حالت درست ہوا کرتی ہے۔سیاسی انجمن کو حکومت کے افسروں کے اثر سے آزاد ہونا چاہئے۔مجلس آئین ساز کو سیاسی ادارے کے حکم سے آزاد ہونا چاہئے اور حکومت اور حکام کو سیاسی انجمن کی دخل اندازی سے آزاد ہونا چاہئے بے شک اگر سیاسی انجمن یہ مجھتی ہے کہ مجلس آئین ساز اس کی پالیسی کو ٹھیک طرح نہیں چلائے گی تو آئندہ انتخاب کے موقع پر وہ اس کے ممبروں کی جگہ دوسرے ممبر کھڑے کر دے۔آئین ساز اسمبلی کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ اگر وہ بجھتی ہے کہ وزراء اس کی مرضی کے مطابق کام نہیں کر رہے تو وہ ان کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ پاس کر دے۔اگر حکام صحیح طور پر کام نہ کر رہے ہوں تو پلیٹ فارم پر سے ان کے خلاف آواز اٹھائی جا سکتی ہے لیکن خفیہ دباؤ یا مستقل طور پر اس کے کام میں دخل اندازی کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہوسکتی۔اگر ایسا کیا جائے گا تو نظام کی گل بالکل ڈھیلی پڑ جائے گی اور دنیا کا بہترین قانون بھی پاکستان کو مضبوط نہ بنا سکے گا۔