انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 270

انوار العلوم جلد ۱۹ الفضل کے اداریہ جات میں بھی ہوتی اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ خونریزی بہر حال ہوئی تھی اور ہوئی مگر سوال صرف اس بات کا ہے کہ تھیں اور اکتیس اگست کو جو دہشت مشرقی پنجاب کے مسلمانوں میں پیدا ہوئی وہ باؤنڈری فورس کے توڑنے کا خالص نتیجہ تھا اور اُس نے اس تمام مقاومت کی کمر توڑ دی جو بعض جگہ کے مسلمان پیش کرنے کیلئے تیار تھے۔سپریم کمانڈ کے توڑنے میں بھی یہی خطرات ہیں پاکستان کی فوج کا بہت سا حصہ تو ادھر آچکا ہے لیکن پاکستان کا بہت سا سامان ابھی ہندوستان میں پڑا ہے بعض غیر ضروری سامان ایسا بھی ہے جو پاکستان کے پاس زیادہ ہے اور ہندوستان میں کم ہے لیکن ضروری سامان زیادہ تر ہندوستان یونین میں پڑا ہے۔پاکستان کے گولہ بارود کا حصہ چھتر ہزارٹن یعنی قریباً ۲۱ لاکھ من اب تک ہندوستان یونین میں ہے اور توپ خانے کا بہت سا سامان اور ہوائی جہازوں کا بہت سا سامان اور بحری فوج کا بہت سا سامان ابھی انڈین یونین کے پاس ہے۔اس سامان کے بغیر پاکستان کی حفاظت کی کوئی کوشش نہیں کی جاسکتی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سپریم کمانڈ نے پورے انصاف سے کام نہیں لیا اور جس سرعت سے پاکستان کو سامان مہیا ہونا چاہئے تھا اُس سرعت سے پاکستان کو سامان مہیا نہیں کیا اور جس نسبت سے پاکستان سے سامان نکالنا چاہئے تھا اس نسبت سے زیادہ تیزی کے ساتھ پاکستان سے سامان نکالا گیا ہے لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ نسبت قائم رکھی گئی ہے۔اگر سپریم کما نڈ ختم ہوگئی تو پاکستان کے سامان کا بھجوانا گلی طور پر ہندوستان یونین کے ہاتھ میں ہوگا۔کیا کوئی سمجھدار انسان کہہ سکتا ہے کہ جنرل آخنلیک پاکستان کے جس سامان کو ہندوستان یونین سے پاکستان کی طرف نہیں بھجوا سکتا ، اس کو سردار بلد یوسنگھ بھجوا دیں گے۔یہ اتنی غلط بات ہے جس کو ہر چھوٹی سے چھوٹی عقل والا انسان بھی سمجھ سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان گورنمنٹ جو پہلے خود سپریم کمانڈ کے توڑنے کی تائید میں تھی اب اُس وقت تک اس کمانڈ کے توڑنے کی تائید میں نہیں جب تک کہ پاکستان کا سامان پاکستان کو نہ مل جائے اور یہ فیصلہ پاکستان گورنمنٹ کا بالکل عقل کے مطابق ہے اور ہمارے نزدیک پاکستان گورنمنٹ کو اصرار کرنا چاہئے کہ جب باہمی سمجھوتہ سے ایک تاریخ مقرر ہو چکی ہے تو اُس وقت تک سپریم کمانڈ کو توڑنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔اگر ہندوستان یونین اس سے پہلے