انوارالعلوم (جلد 19) — Page 256
انوار العلوم جلد ۱۹ الفضل کے اداریہ جات بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ کشمیر کے متعلق نہایت متوحش خبریں آ رہی ہیں جن لوگوں نے یہ خیال کیا ہوا تھا کہ کشمیر کا سوال چند دنوں میں حل کیا جا سکتا ہے نہ صرف ان کی غلطی ان پر واضح ہوگئی بلکہ دوسرے لوگ بھی ان کی غلطی کا خمیازہ بھگتنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔بڑھی ہوئی اُمیدوں کا نتیجہ جب حسب امید نہیں نکلتا تو لوگ اس بات کے سوچنے کی طاقت سے بھی محروم ہو جاتے ہیں کہ حالات کے مطابق کتنا نتیجہ نکلنا چاہئے تھا اور وہ صرف یہی سوچتے ہیں کہ جو کچھ ہمیں کہا گیا تھا اتنا نتیجہ نہیں نکلا۔خواہ وہ نتیجہ جس کی وہ امید کر رہے تھے عقل اور واقعات کے خلاف ہی کیوں نہ ہو اور اس کی وجہ سے وہ لوگ دل چھوڑ بیٹھتے ہیں اور مجبوری کے بغیر کمزوری دکھانے لگ جاتے ہیں۔ایک نقصان یہ بھی ہوتا ہے اور ہوا ہے کہ جب مبالغہ آمیز خبریں شائع کی جائیں تو دشمن بہت زیادہ ہوشیار ہو جاتا ہے جب کشمیر میں انڈین یونین کی فوجیں آئیں تو شروع میں وہ صرف ایک بریگیڈ بھجوانا کافی سمجھتے تھے لیکن پاکستان سے جب یہ آوازیں اٹھنی شروع ہوئیں کہ پچاس ہزار مجاہد سرینگر کے میدان کی طرف بڑھ رہا ہے تو انڈین یونین نے تین ڈویژن کشمیر بھجوانے کا فیصلہ کر دیا اور تمام ڈکوتا ہوائی جہاز جو ہندوستان میں میسر آ سکتے تھے ان کو اس کام پر لگا دیا گیا نتیجہ یہ ہوا کہ جتنی فوج بھیجوانے کا ارادہ نہیں تھا اتنی فوج بھیج دی گئی اور جس عرصہ میں فوج بھیجنے کا ارادہ تھا اس سے پہلے بھیج دی گئی۔ہماری طرف سے صرف فخر کا اظہار ہوا اور ادھر سے کام ہو گیا۔اس فخر کا ہم کو کیا فائدہ ہوا ؟ صرف مخالف نے اس سے فائدہ اُٹھایا اور ہمارے دوستوں کو اس سے سوائے نقصان کے اور کچھ حاصل نہ ہوا۔یہ تو ایک کھلی ہوئی صداقت ہے جس کا انکار نہ حکومت پاکستان کرتی ہے نہ کوئی مسلمان کر سکتا ہے کہ گو پاکستان علَى الْإِعْلان جنگ میں شامل نہیں لیکن وہ کشمیر کو اپنا حق سمجھتا ہے اور کشمیری