انوارالعلوم (جلد 19) — Page 189
انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۸۹ الفضل کے اداریہ جات اور اس کے کام چلانے کے لئے جب تک امن نہ ہو مجھے اور بعض ضروری دفا تر کو قادیان سے باہر رہنا چاہئے تا کہ دنیا کی جماعتوں کے ساتھ مرکز کا تعلق رہے لیکن اگر مجھے یہ معلوم ہو کہ جماعت کے نوجوان خدانخواستہ اس قربانی کو پیش کرنے کے لئے تیار نہیں جس کا میں اوپر ذکر کر چکا ہوں تو پھر ان کو صاف لفظوں میں یہ کہہ دینا چاہئے ہم ان کو واپس بلا لیں گے اور خود ان کی جگہ جانیں دینے کے لئے چلے جائیں گے۔ہمارا باہر آنا اپنی جانیں بچانے کے لئے نہیں بلکہ سلسلہ کے کام کو چلانے کے لئے ہے۔اگر ہمارا با ہر آنا بعض لوگوں کے ایمانوں کو متزلزل کرنے کا موجب ہو تو ہم سلسلہ کی شوری کے فیصلہ کی بھی پرواہ نہیں کریں گے اور ان لوگوں کو جن کے دلوں میں ایمان کی کمزوری ہے اس کام سے فارغ کر کے اللہ تعالیٰ کے فضل پر بھروسہ رکھتے ہوئے خود اس کام کو شروع کر دیں گے۔میرا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ قادیان کے اکثر نو جوانوں میں کمزوری پائی جاتی ہے مجھے کثرت کے ساتھ نو جوانوں کی یہ چٹھیاں آرہی ہیں کہ وہ دلیری کے ساتھ اور ہمت کے ساتھ ہر قربانی پیش کرنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔خود میرے بعض بیٹوں اور بعض دوسرے عزیزوں کی مجھے اس قسم کی چٹھیاں آئی ہیں کہ گوان کا نام قرعہ کے ذریعہ باہر آنے والوں میں نکلا ہے مگر اُن کو اجازت دی جائے کہ وہ قادیان میں رہ کر خدمت کریں یہی وہ لوگ ہیں جو پختہ ایمان والے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو احمدیت اور اسلام کے جھنڈے کو دنیا میں بلند رکھیں گے خواہ مارے جائیں خواہ زندہ رہیں۔چاہئے کہ صفائی کے ساتھ اور بار بار حکومت کو جتاتے رہو کہ ہم حکومت کے وفادار ہیں اور ہم ایک اچھے شہری کے طور پر اس ملک میں رہنے کا وعدہ کرتے ہیں اور ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ جو کچھ مسٹر گاندھی اور مسٹر نہرو کی طرف سے اعلان ہو رہے ہیں وہ بچے ہیں جھوٹے نہیں اس لئے ہم ان اعلانوں پر یقین رکھتے ہوئے قادیان میں بیٹھے ہیں اگر ان اعلانوں کا کچھ اور مطلب ہے تو ہمیں کہہ دو کہ قادیان سے چلے جاؤ۔لیکن اگر مسٹر گاندھی اور مسٹر نہرو کے بیانات صحیح ہیں تو پھر ان کے مطابق عمل کرو اور پر امن شہریوں کو دق نہ کرو۔اس طرح بار بار ان پر حجت تمام کرتے رہو اور قید و بند اور قتل کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے ایمان کا ثبوت دو اور خدا تعالیٰ پر یقین رکھو کہ اول تو فتح اور نصرت کے ساتھ وہ تمہاری مدد کرے گا لیکن اگر تم میں سے بعض کے لئے قید و بند یا قتل مقدر ہے تو