انوارالعلوم (جلد 19) — Page 188
انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۸۸ الفضل کے اداریہ جات وفا دار رہیں گے ظالم دشمنوں کو ہم پر مسلط کیا جا رہا ہے۔حکومت ان کو سزا دینے کی بجائے ہمارے آدمیوں کو سزا دے رہی ہے۔ہماری جماعت کے نوجوانوں کا فرض ہے کہ وہ قطعی طور پر بھول جائیں کہ ان کے کوئی عزیز اور رشتہ دار بھی ہیں ، وہ بھول جائیں اس بات کو کہ ان کے سامنے کیا مصائب اور مشکلات ہیں، انہیں صرف ایک ہی بات یاد رکھنی چاہئے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ سے ایک عہد کیا ہے اور اس عہد کو پورا کرنا ان کا فرض ہے۔آج خدا ہی ان کا باپ ہونا چاہئے ، خدا ہی ان کی ماں ہونی چاہئے اور خدا ہی ان کا عزیز اور رشتہ دار ہونا چاہئے ، میرے بیٹوں میں سے آٹھ بالغ بیٹے ہیں اور ان آٹھوں کو میں نے اس وقت قادیان میں رکھا ہوا ہے۔میں سب سے پہلے ان ہی کو خطاب کر کے کہتا ہوں اور پھر ہراحمدی نوجوان سے خطاب کر کے کہتا ہوں کہ آج تمہارے ایمان کا امتحان ہے آج ثابت قدمی کے ساتھ قید و بند اور قتل کی پرواہ نہ کرتے ہوئے قادیان میں ٹھہرنا اور اس کے مقدس مقامات کی حفاظت کرنا تمہارے فرائض میں شامل ہے۔تمہارا کام حکومت سے بغاوت کرنا نہیں ، تمہارا کام ملک میں بدامنی پیدا کرنا نہیں ، اسلام تم کو اس بات سے روکتا ہے اگر حکومت ہم کو وہاں سے نکالنا چاہتی ہے تو حکومت کے ذمہ دار افسر ہم کو تحریر دے دیں کہ تم قادیان چھوڑ دو۔پھر ہم اس سوال پر بھی غور کر لیں گے مگر جب تک حکومت کے ذمہ دار افسر منہ سے تو یہ کہتے ہیں کہ ہم کسی کو یہاں سے نکالنا نہیں چاہتے اور ان کے نائب ہمیں دکھ دے دے کر اپنے مقدس مقامات سے نکالنا چاہتے ہیں اُس وقت تک ان کی یہ کارروائی غیر آئینی کا رروائی ہے اور ہم اسے کسی صورت میں تسلیم نہیں کریں گے۔مشرقی پنجاب سے اسلام کا نام مٹا دیا گیا ہے ہزاروں ہزار مسجد میں آج بغیر نمازیوں کے ویران پڑی ہیں جن میں جوئے کھیلے جاتے ہیں، شرا میں پی جاتی ہیں ، بدکاریاں کی جاتی ہیں ، ہمارا فرض ہے کہ کم سے کم ہم جب تک ہماری جان میں جان ہے مشرقی پنجاب میں قادیان کے ذریعہ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا بلند رکھیں۔اسلام کو بغیر قربانی کے ختم نہیں ہونے دینا چاہئے۔اسلام تو پھر جیتے گا ہی احمدیت تو پھر بھی غالب ہی آئے گی لیکن ہماری بد قسمتی ہوگی اگر ہم اپنے ہاتھوں سے اسلام کا جھنڈا چھوڑ کر بھا گئیں۔میں اگر قادیان سے باہر آیا تو صرف اس لئے کہ جماعت نے کثرت رائے سے یہ فیصلہ کیا تھا کہ جماعت کی تنظیم