انوارالعلوم (جلد 19) — Page 183
انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۸۳ الفضل کے اداریہ جات سمجھ سکے کہ پاکستان حکومت نے کیوں بار بار یہ اعلان نہیں کیا کہ کشمیر کے معاملہ میں ہم کوئی دخل اندازی پسند نہیں کریں گے۔کشمیر کی اکثریت پاکستان میں شامل ہونے کی مدعی ہے جب تک کشمیر میں آزاد حالات کے ماتحت ریفرنڈم نہیں کیا جائے گا ہم کشمیر کو ہندوستان کے ساتھ شامل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے خصوصاً جبکہ اس کی سرحد سینکڑوں میل تک ہماری سرحدوں سے ملتی ہے اور ہندوستان کے ساتھ اس کا اتصال بہت مختصر ہے۔اگر سیاسی متداول طریقوں کے ذریعہ سے اس قسم کا احتجاج بار بار کیا جاتا اور اخباروں میں اس کا اعلان کیا جاتا تو یقیناً کشمیر کی پوزیشن آج اور ہوتی بلکہ جس طرح جونا گڑھ کے مقابلہ میں ہندوستان یونین نے ایک الگ حکومت قائم کر دی ہے کشمیر کے متعلق بھی پاکستان گورنمنٹ کو یہ اعلان کر دینا چاہئے کہ اگر ہمارے علاقہ میں کشمیر کی کوئی آزاد گورنمنٹ بنی تو ہم اس پر گرفت نہیں کریں گے کیونکہ ایسا ہی طریق ہندوستانی یونین نے اختیار کیا ہے۔کشمیر کی سیاست سے بے تعلق رہنا اس وقت پاکستان کی گورنمنٹ کے لئے مناسب نہیں اگر کشمیر ہندوستانی یونین میں گیا تو اس کے تین خطرناک نتائج پیدا ہوں گے۔اوّل: ۳۲ لاکھ وہاں کا مسلمان اسی طرح ختم کر دیا جائے گا جس طرح مشرقی پنجاب کا مسلمان۔دوسرے صوبہ پنجاب بالکل غیر محفوظ ہو جائے گا کیونکہ ہندوستان یونین اور کشمیر اور صوبہ سرحد کے درمیان پنجاب ایک مثلث کی شکل میں ہے اور اس مثلث کے ایک خط پر کشمیر آتا ہے دوسرے خط پر ہندوستان یونین تیسرے خط پر صوبہ سرحد اور کچھ حصہ سندھ کا۔صاف ظاہر ہے کہ جو ملک مثلث کے دو مخالف خطوط میں آیا ہوا ہوگا وہ کبھی محفوظ نہیں رہ سکے گا۔تیسرا خطرہ پاکستان کو یہ ہے کہ شروع سے ہی ہندوستان یونین کی نظریں صوبہ سرحد پر ہیں کروڑوں روپیہ خرچ کر کے وہاں خدائی خدمت گار وغیرہ قسم کی جماعتیں بنائی گئی ہیں۔کشمیر اگر ہندوستانی یونین کے ساتھ ملے تو ہندوستانی یونین کا براہِ راست صوبہ سرحد کے ساتھ تعلق ہو جائے گا کیونکہ کشمیر کی سرحد صوبہ سرحد اور آزاد قبائلی