انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 172 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 172

انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۷۲ الفضل کے اداریہ جات پس جہاں دیانتداری پائی جائے اس کی قدر کرو اور صرف کسی شخص کے دوسرے گروپ میں شامل ہونے کی وجہ سے اس کی حقارت نہ کرو، اس کے کام کی تذلیل نہ کرو، جو افسروں میں دیانتدار ہیں وہ بھی عزت کے قابل ہیں اور جو ماتحتوں میں دیانتدار ہیں وہ بھی قوم کے سردار ہیں۔اپنے عمل سے ان کو شرمندہ کرو جو دیانتدار نہیں اور اپنے عمل سے ان کو تقویت دو جو دیانتدار ہیں تا کہ پاکستان کا ہر محکمہ اپنے فرائض کو صحیح طور پر ادا کر نے لگ جائے۔ہم پاکستان کے ہر شہری سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ اسے اس کام میں پاکستان کی حکومت کی مدد کرنی چاہئے۔آخر یہ افسر اور کلرک آپ کے بھائی بند ہیں۔آپ کا بھی فرض ہے کہ ان کو اپنے فرائض کی طرف توجہ دلائیں۔ان کی کوتاہیاں آخر آپ کے لئے بھی تباہی کا موجب ہونگی اور ان کی فرض شناسی آپ کی عزت اور آپ کی حفاظت کا موجب بنے گی۔پس اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں اور دوستوں کو جو سرکاری محکموں میں ہیں ان کے فرض کی طرف توجہ دلا ؤ اور ان سے ایسے کام کروانے کی ہرگز کوشش نہ کرو جن سے ان پر رعایت کا الزام لگے اور وہ بد دیانتی کے مرتکب ہوں۔اس صورت میں آپ ایک پیسے کا فائدہ تو اُٹھا ئیں گے لیکن ہزاروں ہزار کا نقصان کر دیں گے۔وہی شہری دنیا میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جس کی حکومت مضبوط مستحکم اور دیانتدار ہو۔چین کی آبادی چالیس کروڑ ہے لیکن اس کے شہری ہو۔کو وہ عزت حاصل نہیں جو انگلستان، آسٹریلیا، کینیڈا اور یونائیٹیڈ سٹیٹس امریکہ کے شہری کو حاصل ہے اس لئے کہ یہ ملک کو چھوٹے ہیں مگر ان کی حکومتیں مستحکم اور مضبوط ہیں اور حکومتیں اسی لئے مستحکم اور مضبوط ہیں کہ ان کے کارکن دیانتدار اور محنتی ہیں۔پس ہر شخص کو چاہئے کہ وہ سارا زور استعمال کر کے حکومت کے محکموں کو دیانتدار بنائے۔اور دیانتداری کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ صرف تمہارا حق ادا ہو بلکہ دیانتداری کے یہ معنی ہیں کہ ہر شخص کا حق ادا ہو۔یہ دیانتداری نہیں ا کہ آپ لوگ اس کی تعریف کریں جس نے آپ کا حق ادا کر دیا یا جس سے آپ اپنا حق کسی لحاظ سے ادا کروا سکیں۔دیانتداری یہ ہے کہ قطع نظر کسی تعلق اور رعایت کے ہر پاکستان کے شہری کا حق ادا کیا جائے خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا ، امیر ہو یا غریب۔اور پاکستان کا ہر کا رکن محنت کے ساتھ اپنے فرائض ادا کرے یہاں تک کہ اگر اسے اپنے مقررہ وقت سے دو گنا وقت بھی دفتر