انوارالعلوم (جلد 19) — Page 155
انوار العلوم جلد ۱۹ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات کھانے شروع کئے یہ دیکھ کر عیسائی غلام سخت حیران ہوا اور آپ سے کہنے لگا آپ مکہ کے رہنے والے ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں! وہ کہنے لگا آپ نے پھر بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ کہاں سے سیکھی ہے؟ آپ نے فرمایا میں بے شک مکہ کا رہنے والا ہوں مگر میں خدائے واحد کو ماننے والا ہوں۔پھر آپ نے پوچھا تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ غلام نے کہا میں نینوا کا رہنے والا ہوں۔آپ نے فرمایا کیا تم اُسی نینوا کے رہنے والے ہو جو خدا کے صالح بندے یونس بن متی کا مسکن تھا ؟ عیسائی غلام نے کہا ہاں مگر آپ کو یونس کے متعلق کیسے معلوم ہوا۔آپ نے فرمایا وہ میرا بھائی تھا کیونکہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کا نبی تھا اور میں بھی اللہ تعالیٰ کا نبی ہوں۔عیسائی غلام نے کہا اچھا آپ کی تعلیم کیا ہے؟ اس پر آپ نے اسے مختصر طور پر اپنی تعلیم سنائی اور اسے تبلیغ بھی کی وہ غلام آپ کی باتیں سُن کر ایسا مسحور ہوا کہ جوں جوں آپ باتیں کرتے جاتے تھے اُس کے جذبات اُبھرتے جاتے تھے آخر اس نے آپ کے ہاتھ چومتے ہوئے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! میں آپ پر ایمان لاتا ہوں۔۲۳ کیونکہ آپ کی تعلیم نبیوں والی ہے عتبہ اور شیبہ دور بیٹھے اس نظارہ کو حیرانگی کے ساتھ دیکھ رہے تھے۔جب غلام واپس ان کے پاس پہنچا تو انہوں نے اسے کہا تم نے یہ کیا حرکت کی تھی کہ اس شخص کے ہاتھ چوم رہے تھے۔اس نے کہا جوتعلیم میں نے اس شخص کی زبانی سنی ہے وہ نبیوں والی تعلیم ہے۔پس پیشتر اس کے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں واپس پہنچتے خدا تعالیٰ نے آپ کو ایک موحد دے دیا اور آپ کے اُس افسوس کو جو سفر طائف کی وجہ سے آپ کو ہوا تھا دور کر دیا۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے جسمانی پھل (انگور ) بھی انہیں دشمنوں کے ہاتھوں سے دیا جو ہمیشہ آپ کو پتھر مارا کرتے تھے اور روحانی پھل (عیسائی) غلام کا ایمان لانا ) بھی انہی دشمنوں کے ہاتھ سے دیا گویا وہ غلام جسمانی پھل آپ کو دے گیا اور آپ سے روحانی پھل لے گیا۔اُس وقت خدا تعالیٰ عرش پر بیٹھا کہہ رہا تھا اليس الله بکاف عبده کیا اے محمد ! تیرے دل میں یہ افسوس تھا کہ اس سفر میں ایک بھی موحد نہیں ملالو میں نے اس افسوس کو دور کرتے ہوئے ایک موقد تم کو دے دیا اور تیرے دشمنوں کے ہاتھوں سے دیا بے شک وہ موحد ایک غلام تھا مگر وہ دنیا کی نظروں میں غلام تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظروں میں وہ غلام نہ تھا بلکہ قیصر و کسریٰ اور اور فراعنہ مصر