انوارالعلوم (جلد 19) — Page 123
انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۲۳ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ہر نازک موقع پر ، ہر دکھ اور ہر پریشانی کے وقت آپ کے ساتھ اليس الله بکاف عبده کا ثبوت دیا۔ویسے تو یہ ایک ہی آیت ہے مگر یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ہزاروں واقعات اور ہزاروں ایمان افروز نظاروں کا مجموعہ ہے۔آپ کے سوانح کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قدم قدم پر ہر مصیبت کے وقت آپ کے ساتھ آلیس الله بکاف عبده کا معاملہ کیا۔قبل ازیں میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی شادی تک کے واقعات بیان کئے تھے آج میں اس سے آگے یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ جب آپ کی شادی ہو چکی اور کچھ عرصہ کے بعد آپ کی عمر ایسی حالت کو پہنچ گئی جو روحانی بلوغت کی عمر کہلاتی ہے تو اُس وقت بھی اللہ تعالیٰ نے ہی آسمان سے آپ کی مدد کی اور آپ کی روحانی پیاس کو بجھانے کا سامان پیدا کیا۔یہ امر یا د رکھنا چاہئے کہ بلوغت دو قسم کی ہوتی ہے ایک بلوغت جسمانی ہوتی ہے جو اٹھارہ سے اکیس سال کی عمر تک ہوتی ہے اور ایک بلوغت عقلی ہوتی ہے جو اٹھارہ سے پچیس سال کی عمر تک ہوتی ہے لیکن ان دونوں قسموں کے علاوہ بلوغت کی ایک قسم روحانی بھی ہے جس میں انسان | کے تقاضائے طبعی بالغ ہو جاتے ہیں اور انسان اپنے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے لئے ایک خاص لائحہ عمل تجویز کرتا ہے۔روحانی بلوغت کی عمر کے متعلق قرآن کریم سے اور بزرگوں کے حالات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ چالیس سال کی عمر ہے۔ا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق فرماتا ہے ولما بلغ اشده کے یعنی جب اپنی بلوغت روحانیہ کو پہنچ گئے۔دوسری جگہ اللہ تعالیٰ مکمل جوانی یا بلوغت روحانیہ کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتا ہے حَتَّى إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ از بحنين سنة ٥ یعنی جب انسان کامل جوانی کو پہنچ گیا اور اُس کی عمر چالیس سال کی ہوگئی۔پس بلوغت روحانی چالیس سال کی عمر سے شروع ہوتی ہے وہاں بعض اوقات اللہ تعالیٰ نے اپنی کسی حکمت اور مصلحت کے ماتحت ایسے انبیاء کو بھی مبعوث فرمایا ہے جن کی عمر چالیس | سال سے کم تھی۔مثلاً اللہ تعالیٰ نے جب حضرت یحیی کو مبعوث فرمایا اُس وقت ان کی عمر چھیں سال تھی اسی طرح حضرت عیسی کی عمر بعثت کے وقت تیس سال تھی لیکن ان دونوں انبیاء کی بعثت