انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 122 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 122

انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۲۲ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات ہے ایسا نہ ہو کہ بعد میں پچھتاؤ۔حضرت خدیجہ نے کہا میں نے اچھی طرح اس معاملہ پر غور کر لیا ہے چاہے کچھ ہو جائے میں اپنا سارا مال آپ کے سپرد کرتی ہوں۔آپ نے فرمایا اگر یہ بات ہے تو پہلا کام میں یہ کرتا ہوں کہ ان سارے غلاموں کو آزاد کرتا ہوں۔حضرت خدیجہ نے خندہ پیشانی سے اس بات کو برداشت کر لیا مگر چونکہ آپ کو تجارت وغیرہ کے معاملہ میں ایک ساتھی کی بھی ضرورت تھی اس لئے آپ نے جن غلاموں کو آزاد کیا اُن میں سے ایک غلام زید نے تو کہا آپ نے مجھے آزاد کر دیا ہے مگر آپ کے اخلاق اس قسم کے ہیں کہ میں آپ سے جدا نہیں ہونا چاہتا۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آلیس اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ اے محمد ! تم اس بات کو برداشت نہ کر سکتے تھے کہ تم اپنی بیوی کے مال پر گزارہ کرو اس لئے ہم نے تمہارے لئے یہ انتظام کر دیا کہ تمہاری بیوی نے اپنا سارا مال تمہارے قدموں میں لا کر پھینک دیا۔پھر آپ کو غلام آزاد کرنے کے بعد ایک ساتھی کی ضرورت تھی اس کے لئے ہم نے یہ انتظام کیا کہ تم نے جن غلاموں کو آزاد کیا تھا ان میں سے ایک نے کہہ دیا کہ آپ بے شک مجھے آزاد کر دیں مگر چونکہ آپ کے اخلاق نہایت اعلیٰ درجہ کے ہیں اس لئے میں آپ سے جدا ہونا نہیں چاہتا۔اس طرح ہم نے تمہارے ساتھی کی ضرورت بھی پوری کر دی۔غرض ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح قدم بقدم ہر ضرورت کے وقت ، ہر مصیبت کے وقت ، ہر خطرہ کے وقت اور ہر تکلیف کے وقت اللہ تعالیٰ نے آلیس الله بکاف عبده کانمونہ آپ کی ذات سے اعلیٰ اور ارفع طور پر وابستہ کر کے دکھا دیا فَسُبحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ العظيم - فرموده ۲۵ جون ۱۹۴۷ء آج میں پھر اسی مضمون کو لیتا ہوں جو کچھ دن ہوئے میں نے شروع کیا تھا وہ مضمون تو ایسا ہے جس کے بیان کرنے کے لئے صحت کاملہ کا ہونا ضروری ہے کیونکہ مضمون بہت زیادہ تشریح چاہتا ہے اور مجھے چار پانچ دن سے کان میں تکلیف رہی ہے اب کچھ افاقہ ہے اس لئے میں نے ارادہ کیا ہے کہ آج اس مضمون کا کچھ حصہ بیان کر دوں۔وہ مضمون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی میں آلیس الله بکاف عبده کے نظاروں کے متعلق