انوارالعلوم (جلد 19) — Page 119
انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۱۹ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات۔صلى الله اے محمد رسول اللہ ﷺ ! تو یتیم تھا مگر میں نے تیری کفالت کی یا نہ کی اور تیرے یتم کو ڈور کیا یا نہ کیا؟ پھر آپ بڑے ہوئے اُس وقت یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ آپ کونسا کا روبار کریں۔آپ کے پاس کوئی جائداد نہ تھی جس سے کوئی کاروبار شروع کرتے ، نہ ہی آپ جس چا کی کفالت میں تھے ان کے پاس کوئی مال و دولت تھا کہ وہ آپ کو کاروبار کے لئے کچھ رقم دے دیتے۔ان کی تو یہ حالت تھی کہ باہر سے آنے والے لوگ کچھ خدمت کر جاتے تھے اور ان کا گزارہ ہو جاتا تھا اس لئے وہ آپ کی کچھ مدد نہ کر سکتے تھے۔غرض باوجود اس کے کہ آپ کے پاس کا روبار کے لئے کوئی سامان نہ تھا اور آپ کو کوئی فن بھی نہ آتا تھا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی مدد فرمائی اور وہ اس طرح کہ ایک قافلہ تجارت کے لئے شام کی طرف جا رہا تھا ایک دولت مند عورت نے آپ کو دیانتدار سمجھتے ہوئے ( کیونکہ آپ امین کے نام سے مشہور تھے ) آپ کو بلایا اور کہا میں آپ کے سپر د اپنے اموال کرتی ہوں آپ قافلہ کے ساتھ شام کو جائیں اور تجارت کر کے واپس آئیں میں آپ کو اس اس قدر حصہ دوں گی۔لوگ تو دوڑتے پھرتے ہیں اور کبھی کسی کے پاس جاتے ہیں اور کبھی کسی کے دروازہ پر پہنچتے ہیں کہ نوکری مل جائے لیکن اس دولت مند عورت نے خود بلا کر آپ کو نوکری دی۔اب دیکھو جب آپ کی کمائی کا زمانہ آیا تو کجا یہ حالت کہ لوگ نوکریوں کے لئے مارے مارے پھرتے ہیں اور گجا یہ حالت کہ وہ دولت مند عورت آپ کو بلا کر خودا اپنی بہت سی دولت آپ کر سپر د کرتی ہے اور کہتی ہے آپ قافلہ کے ساتھ تجارت کے لئے جائیں چنانچہ آپ قافلہ کے ساتھ شام کو گئے اور آپ نے ایسی دیانت داری اور محنت سے کام کیا اور اتنا نفع ہوا کہ پہلے اس عورت کو تجارت میں کبھی اتنا نفع نہ ہوا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ پہلے وہ اپنے نوکروں کے سپر دسارا کاروبار کرتی تھی اور وہ لوگ دیانت داری سے کام نہ کرتے تھے مگر آپ نے ایسا انتظام کیا کہ کسی کو نفع کی رقم سے چھونے تک نہ دیا۔غرض آپ بہت زیادہ نفع کے ساتھ تجارت کر کے واپس آئے۔اُس وقت آپ کی عمر شادی کے قابل تھی مگر آپ غریب آدمی تھے اور غریبوں کو لڑکیاں کون دیتا ہے، غریبوں کو تو غریب گھرانوں سے بھی لڑکیاں نہیں مانتیں مگر جب آپ تجارت کر کے واپس مکہ پہنچے اور آپ نے تجارت کا سارا نفع اُس عورت کے