انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 118

انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۱۸ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات۔مرنے لگتی ہیں تو اپنے خاوندوں سے کہہ جاتی ہیں میرے بچوں کا خاص خیال رکھنا۔مگر خاوند جب دوسری شادیاں کرتے ہیں تو پہلی بیوی کی اولا د کو کوئی پوچھتا تک نہیں اور وہ اولا د دھکے کھاتی پھرتی ہے۔خاوند مرتے ہیں تو وہ بھی اپنی اولاد کے متعلق کسی کو خاص خیال رکھنے کے لئے کہہ جاتے ہیں مگر ہم نے دیکھا ہے کہ ان کے بچے بھی در بدر کی ٹھو کر میں کھاتے پھرتے ہیں اور بعض نظارے تو نہایت دردناک دکھائی دیتے ہیں۔پس ہو سکتا تھا کہ ابو طالب بھی اپنے باپ کی وفات کے وقت کی وصیت کا کوئی خیال نہ رکھتے مگر وہ کس طرح نہ رکھتے جبکہ خدا تعالیٰ عرش سے اُن کو وصیت کر رہا تھا اور اُن کے دل میں محمد ہے کے لئے بے انتہا محبت پیدا کر رہا تھا۔پس جب آپ ابو طالب کی کفالت میں آئے تو باوجودیکہ ابو طالب کی بہت سی اولا د تھی اور وہ تھے بھی غریب آدمی مگر وہ آپ کے ساتھ اپنے بچوں سے بڑھ کر محبت کرتے تھے اور وہ آپ کو اتنا عزیز رکھتے تھے کہ ہر وقت آپ کو اپنی آنکھوں کے سامنے رکھتے تھے یہاں تک کہ رات کو بھی اپنے پاس ہی سلاتے تھے۔ابو طالب کی بیوی یعنی آپ کی چچی کے دل میں وہ محبت آپ کے لئے نہ تھی وہ بعض دفعہ کوئی چیزا اپنے بچوں میں تقسیم کر دیتی تھی اور آپ کو نہ دیتی تھی مگر آپ کے وقار کا بچپن میں ہی یہ عالم تھا کہ باوجود آٹھ نو سال کی عمر کے آپ نے کبھی ایسی باتوں کا شکوہ نہ کیا اور کبھی اپنے منہ سے کوئی چیز نہ مانگی۔ابو طالب جب آپ کو ایک طرف بیٹھے دیکھتے تو سمجھ جاتے کہ کوئی بات ہے وہ دیکھتے کہ ان کی بیوی اپنے بچوں میں کوئی چیز تقسیم کر رہی ہے تو وہ پیار سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گود میں اُٹھا لیتے اور یہ نہیں کہتے کہ یہ میرا بھتیجا ہے بلکہ بیوی سے کہتے تو نے میرے بیٹے کو تو دیا ہی نہیں یعنی وہ اپنے بیٹوں کو بیٹے نہیں سمجھتے تھے بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی حقیقی بیٹا سمجھتے تھے اور وہ بار بار دہراتے جاتے تھے کہ تو نے میرے بیٹے کو تو دیا ہی نہیں۔عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جب ماں باپ کی اپنی اولا د زیادہ ہوتی ہے تو دوسروں کی اولا د اُن کی نظر میں ہی نہیں جچتی مگر خدا تعالیٰ نے ابو طالب کے دل میں آپ کے لئے اتنی محبت پیدا کر دی تھی کہ وہ محمد رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں اپنے بیٹوں کو بیٹے ہی نہیں سمجھتے تھے۔یہ بھی آلیس اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ کا ہی نمونہ تھا۔پس اللہ تعالیٰ رسول کریم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے آليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَه که