انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 95

انوار العلوم جلد ۱۹ 6 ۹۵ قومی ترقی کے دوا ہم اصول خیال بھی اپنے دل میں نہیں لا سکتے کہ مسیح ، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل تھے اور یہ ماننے سے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو زیر زمین مدفون ہیں اور حضرت عیسی علیہ السلام چوتھے آسمان پر بیٹھے ہیں اسلام کی سخت تو ہین ہوتی ہے دوسری بات جو اس حیات مسیح کے عقیدہ کے ماننے سے ہمیں چھتی ہے وہ یہ ہے کہ اس سے تو حید الہی میں فرق آتا ہے۔یہ دو چیزیں ہیں جن کی وجہ سے ہمیں وفات مسیح کے مسئلہ پر زور دینا پڑتا ہے اگر یہ باتیں نہ ہوتیں تو مسیح خواہ آسمان پر ہوتے یا زمین پر ہمیں اس سے کیا واسطہ تھا مگر جب ان کا آسمان پر چڑھنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی توہین کا موجب بنتا ہے اور توحید کے منافی ہے تو ہم اس عقیدہ کو کیسے برداشت کر سکتے ہیں۔ہم تو یہ بات سننا بھی گوارا نہیں کر سکتے کہ مسیح، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل تھے گجا یہ کہ اس عقیدہ کو مان لیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ عام احمدی جب وفات مسیح کے مسئلہ پر بحث کر رہے ہوتے ہیں اور اپنے دلائل پیش کر رہے ہوتے ہیں تو اُن کے اندر جوش پیدا نہیں ہوتا بلکہ وہ اس طرح اس مسئلہ کو بیان کرتے ہیں جس طرح عام گفتگو کی جاتی ہے مگر ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا ہے کہ جب آپ وفات مسیح کا مسئلہ چھیڑتے تھے تو اُس وقت آپ جوش کی وجہ سے کانپ رہے ہوتے تھے اور آپ کی آواز میں اتنا جلال ہوتا تھا کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ آپ حیات مسیح کے عقیدہ کا قیمہ کر رہے ہیں۔آپ کی حالت اُس وقت بالکل متغیر ہو جایا کرتی تھی اور آپ نہایت جوش کے ساتھ یہ بات پیش کرتے تھے کہ دنیا کی ترقی کے راستہ میں ایک بڑا بھاری پتھر پڑا تھا جس کو اُٹھا کر میں دور پھینک رہا ہوں ، دنیا تاریکی کے گڑھے میں گر رہی تھی مگر میں اس کو نور کے میدان کی طرف لئے جا رہا ہوں۔آپ جس وقت یہ تقریر کر رہے ہوتے تھے آپ کی آواز میں ایک خاص جوش نظر آتا تھا اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تخت پر مسیح بیٹھ گئے ہیں جس نے ان کی عزت اور آبرو چھین لی ہے اور آپ اُس سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تخت واپس لینا چاہتے ہیں۔پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنی خود ساختہ متخیلہ کو چھوڑ دو اور اپنی قوت ارادی کو مضبوط بناؤ تم یہ سمجھ لو کہ تمام دنیا کی روحانی خرابی اور تباہی دور کرنے کی ذمہ داری تمہارے