انوارالعلوم (جلد 18) — Page 75
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۷۵ اسلام کا اقتصادی نظام ذلیل سے ذلیل تر وجود قرار دیتے ہیں۔وہ اُن کو نکما اور قوم کاغذ ار سمجھتے ہیں اور اُن کے نزدیک یہ لوگ اس قابل ہیں کہ یا تو ان کو قید کر دیا جائے اور یا اپنے ملک سے باہر نکال دیا جائے۔اس تفصیل کے ماتحت کمیونزم کمیونسٹ نظام میں انبیاء علیہم السلام کا درجہ عام میں وہ شخص جس کے صلى الله پیروں کی میل کے برابر بھی ہم دنیا کے بڑے بڑے بادشاہ کو نہیں سمجھتے ، جس کیلئے ہم میں سے ہر شخص اپنی جان کو قربان کرنا اپنی انتہائی خوش بختی اور سعادت سمجھتا ہے یعنی حضرت محمد مصطفی مستانی جو رات اور دن خدا کی باتیں سنا کر بنی نوع انسان کی روح کو روشن کیا کرتے تھے اسی طرح مسیح، موسی ، ابراہیم ، کرشن ، رام چندر ، بدھ ، زرتشت ، گورو نانک کنفیوشس یہ سب کے سب نَعُوذُ بِاللہ لکھے اور قوم پر بار تھے اور ایسے آدمیوں کو ان کے قانون کے ماتحت یا تو فیکٹریوں میں کام کے لئے بھجوا دینا چاہئے تا کہ اُن سے جوتے بنوائے جائیں یا اُن سے بوٹ اور گرگا بیاں تیار کرائی جائیں یا اُن سے کپڑے سلائے جائیں یا اُن کو لوگوں کے بال کاٹنے پر مقر ر کیا جائے اور اگر یہ لوگ اس قسم کا کام کرنے کے لئے تیار نہ ہوں تو پھر اُن کا کھا نا پینا بند کیا جانا چاہئے کیونکہ اُن کے نزدیک یہ لوگ نکے اور قوم پر بار ہیں۔کمیونسٹ نظام تصویر بنانے کو کام قرار دیتا ہے، وہ سیٹھ STATUB) بنانے کو کام قرار دیتا ہے مگر وہ روح کی اصلاح کو کوئی کام قرار نہیں دیتا بلکہ اسے نکما پن سمجھتا ہے۔حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ روٹی ہی انسان کا پیٹ نہیں بھرا کرتی اور صرف غذا ہی اُس کے اطمینان کا موجب نہیں ہوتی بلکہ ہزاروں ہزار انسان دنیا میں ایسے پائے جاتے ہیں کہ اگر اُن کو عبادت سے روک دو تو وہ کبھی بھی چین نہیں پائیں گے خواہ اُن کی غذا اور لباس کا کس قدر خیال رکھا جائے۔کمیونزم کا کام کے متعلق تعجب ہے کہ کمیونسٹ نظام چھ گناہ فیکٹریوں میں کام کر کے سینما اور ناچ گھروں میں جانے والے اور شراب میں عجیب و غریب نظریہ مت رہنے والے کو کام کرنے والا قرار دیتا ہے، وہ فوٹوگرافی اور میوزک کو کام قرار دیتا ہے مگر وہ روح کی درستی اور اخلاق کی اصلاح کو کوئی کام قرار نہیں دیتا۔پچھلے دنوں مارشل مائی نو وسکائی MOTI NOOSKY) سے کسی نے پوچھا