انوارالعلوم (جلد 18) — Page 74
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۷۴ اسلام کا اقتصادی نظام ہے۔وہ تو کام کرنے والا ہے مگر جو شخص مذہب پڑھتا یا پڑھاتا یا پھیلاتا ہے وہ نکھا اور بے کار ہے۔اُن کے نزدیک لوگوں کو الف اور باسکھا نا کام ہے مگر لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ اگر لوگوں کو سکھایا جائے تو یہ کام نہیں بلکہ نکما پن ہے۔پس گو لفظاً ہم اُن سے متفق ہیں اور ہم بھی یہی سمجھتے ہیں کہ کام کرنے والا ہی روٹی کا مستحق ہونا چاہئے مگر اس امر میں ہم ہرگز اُن سے متفق نہیں ہیں کہ جب تک ایک کمیونسٹ کسی کام کی تصدیق نہ کرے وہ کام ہی نہیں ہے۔کمیونسٹ کے نزد یک اُخروی زندگی کے لئے کام کام نہیں بلکہ وقت کا ضیاع ہے۔اُس کے نزدیک قرآن پڑھانے والا وقت ضائع کر رہا ہے ، حدیث پڑھانے والا وقت ضائع کر رہا ہے ، فقہ پڑھانے والا وقت ضائع کر رہا ہے، اصول فقہ پڑھانے والا وقت ضائع کر رہا ہے، تفسیر پڑھانے والا وقت ضائع کر رہا ہے، تصوف پڑھانے والا وقت ضائع کر رہا ہے ، لوگوں کو اخلاق کا درس دینے والا وقت ضائع کر رہا ہے، ایک مسلمان کے نزدیک یہ اُس کی جان سے زیادہ قیمتی اشیاء ہیں اور ان علوم کو زندہ رکھنے اور پھیلانے کے لئے ہزاروں انسانوں کی ضرورت ہے۔صرف روس میں کہ جہاں مسلمان تین کروڑ ہیں کم سے کم پچاس ہزار علماء اور اتنے ہی طلباء چاہئیں جو آئندہ اُن کی جگہ لیں۔مگر کمیونزم نظام کے نزدیک یہ تمام لوگ جو قرآن پڑھانے والے، حدیث پڑھانے والے تفسیر پڑھانے والے، تصوف پڑھانے والے ، فقہ پڑھانے والے، اصول فقہ پڑھانے والے یا اخلاق کا درس دنیا کو دینے والے ہیں خون کو چوس لینے والے قوم کو تباہ کر دینے والے کیڑے ہیں یہ نکھے اور نالائق وجود ہیں۔یہ اپنی قوم پر بار ہیں اور یہ لوگ اس قابل ہیں کہ ان کو جلد سے جلد دنیا سے مٹا دیا جائے۔اب دیکھو ہمارے نظریہ اور اُن کے نظریہ میں کتنا بڑا فرق ہے اور مشرق و مغرب کے اس قد ربعد کو کس طرح دُور کیا جا سکتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض لوگ دھو کے باز بھی ہوتے ہیں اور وہ دین کی خدمت کا دعویٰ کر کے اپنے اعمال اس کے مطابق نہیں بناتے مگر اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص جو دین کی سچی خدمت کر رہا ہو، جو اسلام کی اشاعت کیلئے اپنی زندگی کو قربان کر رہا ہو ہم اُسے اپنا سردار سمجھتے ہیں، اُسے قومی زندگی کیلئے بمنزلہ رُوح سمجھتے ہیں اور ہم اُسے اپنا بڑے سے بڑا محسن سمجھتے ہیں مگر کمیونسٹ ایسے لوگوں کو ادنیٰ سے ادنی اور