انوارالعلوم (جلد 18) — Page 39
انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۹ اسلام کا اقتصادی نظام کو ذلیل اور حقیر اور مضر بتایا ہے جو دنیا کمانے کی طرف انسان کو متوجہ کرتے ہیں اور فرماتا ہے کہ یہ سب امور جو نا جائز دنیا کمانے کا موجب ہوتے ہیں نتیجہ کے لحاظ سے ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے کہ عمدہ کھیتی سُوکھ کر راکھ ہو جائے۔یعنی جس طرح وہ کام نہیں آتی اسی طرح ایسی دولت بھی انسان کو کوئی حقیقی نفع نہیں بخشتی اس لئے تم ان اغراض کے ماتحت دولت مت کماؤ کہ یہ خدا تعالیٰ کا غضب بھڑ کانے کا موجب ہیں۔جب اُس کے پاس فضل بھی ہے تو تم کیوں فضل کو حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے اور کیوں ان حقیر اور ذلیل خواہشات کے پیچھے چلتے ہو۔اب ظاہر ہے کہ جو شخص اسلام پر عمل کرے وہ کبھی اوپر کے محرکات سے متاثر ہو کر دولت نہیں کما سکتا اور اگر اس حکم پر عمل کرتے ہوئے وہ کچھ کمائے گا بھی تو وہ نیک کاموں میں خرچ ہو جائے گا۔اور اس طرح غربت و امارت کی خلیج وسیع نہ ہوگی بلکہ پائی جائے گی کیونکہ ان اغراض کے روک دینے کے بعد کوئی ایسا محرک باقی نہیں رہتا جس کی وجہ سے کوئی شخص اپنے نفس کیلئے اموال کما سکے کیونکہ مال کمانے کی تین ہی صورتیں ہوسکتی ہیں۔(۱) اپنی ضرورت کے مطابق۔(۲) اپنی ضرورت سے زیادہ لیکن اس لئے کہ اُس سے بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچا سکے اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کر سکے۔(۳) مال اوپر کے بُرے محرکات کی وجہ سے کمائے۔یعنی کھیل تماشے کیلئے ، عیاشی کیلئے ، فخر اور عزت کے لئے ، حرص مال کی وجہ سے۔ظاہر ہے کہ آخر الذکر صورتوں میں ہی انسان نا جائز طور پر مال کمائے گا اور دوسرے انسانوں کے لئے نقصان کا موجب ہوگا۔اول الذکر دونوں صورتوں میں یہ بات پیدا نہ ہوگی۔جو شخص ضرورت کے مطابق کمائے گا وہ بھی دوسروں کے لئے نقصان کا موجب نہ ہوگا اور جو ضرورت سے زائد کمالے گا لیکن اُس مال کے کمانے کا محرک صرف خیر و نیکی میں مسابقت کی روح ہو گی اُس کا مال بھی دوسرے انسانوں کے فائدہ کے لئے خرچ ہوگا اور اس سے افراد ملک یا قوم کو کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔