انوارالعلوم (جلد 18) — Page 38
انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۸ اسلام کا اقتصادی نظام روپیہ جمع کرنے کی خواہش بھی بعض لوگوں کو زیادہ سے زیادہ روپیہ سمیٹنے پر آمادہ کر دیتی ہے۔وہ چاہتے ہیں کہ اُن کے پاس دوسروں سے زیادہ روپیہ جمع ہوتا جائے۔وہ چاہتے ہیں کہ ہمارے ہمسایہ کے پاس اگر دس لاکھ روپیہ ہے تو ہمارے پاس ایک کروڑ روپیہ ہو۔یا اُس کے پاس اگر ایک کروڑ روپیہ ہو تو ہمارے خزانہ میں دو کروڑ روپیہ ہو۔جہاں تک میں نے غور کیا ہے یہی امور دولت کمانے کے محرک ہوتے ہیں جو قرآن کریم نے بیان کئے ہیں۔اسلام میں ناجائز اغراض کیلئے ان محرکات کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ دولت کمانے کی ممانعت نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَريهُ مُصْفَرًا ثُمَّ يَكُونُ حُطاما ہم ان تمام امور کو اُس بادل کی طرح قرار دیتے ہیں جو آسمان پر چھا جاتا ہے اور زمیندار سمجھتا ہے کہ اب اس بادل کے برسنے سے میری کھیتی ہری بھری ہو جائے گی۔ثُمَّ يَهِيجُ فَتَريه مصفرا مگر جب وہ بادل برستا ہے تو ایسے رنگ میں برستا ہے کہ بجائے اس کے کہ وہ کھیتی ہری بھری ہو ، بجائے اِس کے کہ غلہ زیادہ پیدا ہو ، بجائے اس کے کہ زمیندار کو نفع ہو وہ کھیتی سُوکھ جاتی ہے اُس کا دانہ سڑ جاتا ہے اور آخر رڈی ہو کر وہ کوڑا کرکٹ بن جاتی ہے۔مثلاً زیادہ بارش ہو جاتی ہے اور کھیتی بر باد ہو جاتی ہے یا ضرورت سے کم بارش برستی ہے اور اس صورت میں بھی کھیتی کو نقصان پہنچتا ہے۔وفي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدُ، وَمَغْفِرَةً من الله ورضوان اور علاوہ اس کے کہ اِن امور کا نتیجہ اس دنیا میں خراب نکلتا ہے مرنے کے بعد بھی ایسے لوگوں کو عذاب میں مبتلا کیا جاتا ہے لیکن جو لوگ اِن محرکات کو دباتے ہیں اور ان کا شکار نہیں ہوتے اُن کو اللہ تعالیٰ اپنی بخشش سے ڈھانپ لیتا ہے اور اپنی رضا ء اور خوشنودی سے مسرور کرتا ہے۔پھر فرماتا ہے۔وما الحيوةُ الدُّنْيَا إِلا مَتَاعُ الْغُرُورِ اور اس دنیا کی زندگی تو بالکل دھوکے کی زندگی ہے۔جب ہمارے پاس مغفرت اور رضوان بھی ہے اور ہمارے پاس عذاب بھی ہے تو اے انسان! تو دنیا کی لغو خوا ہشات کی وجہ سے ہماری مغفرت اور ہماری رضوان کو کیوں نظر انداز کر رہا ہے اور کیوں اعلیٰ درجہ کی چیزوں کو چھوڑ کر ذلیل اور ادنی چیزوں کی طرف دوڑ رہا ہے۔اس آیت میں قرآن کریم نے اُن محرکات و موجبات