انوارالعلوم (جلد 18) — Page 588
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۵۸۸ ہمارا فرض ہے کہ ہم مظلوم قوم کی مددکر ہیں۔جماعتوں پر ہوتا آیا ہے مگر یہ نہایت ذلیل احساسات ہیں جو اس اخبار نے پیش کئے ہیں حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے بھی ہم پر ہمیشہ ظلم کیا۔شروع شروع میں جب احمدی تالاب سے مٹی لینے جاتے تھے تو یہاں کے سکھ وغیرہ ڈنڈے لے کر آ جاتے تھے۔آخر ہمارے ساتھ کس نے کمی کی مگر ہر موقع پر خدا ہماری مدد کرتا رہا۔ہمارا دشمن اگر ہمارے ساتھ ظلم اور بے انصافی بھی کرے تو ہم انصاف سے کام لیں گے اور جب تک یہ روح ہمارے اندر پیدا نہ ہو جائے خدا ہمارا ساتھ نہیں دے گا۔پس ہم دیکھیں گے کہ حق کس کا ہے ہندو کا ہوگا تو اُس کی مدد کریں گے، سکھ کا ہوگا تو اُس کی مدد کریں گے، مسلمان کا ہوگا تو اُس کی مدد کریں گے ہم کسی کی دوستی اور دشمنی کو نہیں دیکھیں گے بلکہ اس معاملہ کو انصاف کی نگاہوں سے دیکھیں گے اور جب انصاف پر قائم ہونے کے باوجود ہم پر ظلم ہوگا تو خدا کہے گا انہوں نے دشمن کے ساتھ انصاف کیا تھا کیا میں ان کا دوست ہو کر ان سے انصاف نہ کروں گا ؟ اور اس کی غیرت ہمارے حق میں بھڑ کے گی جو ہمیشہ ہمارے کام آئے گی۔اِنشَاءَ اللهُ باج گزار: ریاست کو محصول دینے والا اخبار الفضل قادیان ۲۱ مئی ۱۹۴۷ ء )