انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 587 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 587

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۵۸۷ ہمارا فرض ہے کہ ہم مظلوم قوم کی مدد کریں۔کہ راجہ کا حکم پہنچ جاتا کہ تمہاری وجہ سے امن شکنی ہو رہی ہے جلدازجلد اس علاقے سے نکل جاؤ۔ملکا نا کے ایک گاؤں میں ایک بڑھیا مائی جمیا شدھ ہونے سے بچی تھی۔باقی اس کے تین چار بیٹے آریوں نے مرتد کر لئے تھے اور بیٹوں نے اس بڑھیا ماں سے کہا تھا کہ ماں ہم دیکھیں گے کہ اب مولوی ہی آکر تمہاری فصل کاٹیں گے۔کسی نے مجھے لکھا کہ ایک بڑھیا کو اس قسم کا طعنہ دیا گیا ہے اور اب اُس کی فصل پک کر تیار کھڑی ہے۔میں نے کہا اسلام اور احمدیت کی غیرت چاہتی ہے کہ اب مولوی اور تعلیم یافتہ لوگ ہی جا کر اس بڑھیا کا کھیت کا ٹیں چنانچہ میں نے اس کے لئے تحریک کی تو بڑے بڑے تعلیم یافتہ لوگ جن میں حج بھی تھے اور بیرسٹر بھی ، وکلاء بھی تھے اور ڈاکٹر بھی مولوی بھی تھے اور مدرس بھی اور انہی میں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے والد مرحوم بھی گئے اور خان بہادر شیخ محمدحسین صاحب سیشن حج بھی گئے ان سب تعلیم یافتہ لوگوں نے اُس بڑھیا کا کھیت کاٹا۔ان کے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے مگر اس بات کا اتنا رُعب ہوا کہ اس سارے علاقہ میں احمدیوں کی دھاک بیٹھ گئی مگر وہاں کے راجہ نے اتنا ظلم کیا کہ یہ لوگ چار پانچ میل گرمی میں جاتے تھے تو رات کو واپس سٹیشن پر آ کر سوتے تھے۔چوہدری نصر اللہ خان صاحب باوجودیکہ بڑھے آدمی تھے اُن کو بھی مجبوراً روزانہ گرمی میں چار میل جانا اور چار میل آنا پڑتا تھا۔آخر میں نے اپنا ایک آدمی گورنمنٹ ہند کے پولیٹکل سیکرٹری کی طرف بھجوایا کہ اتناظلم نہیں کرنا چاہئے۔اس ریاست میں جو چار پانچ لاکھ ہندو ہے وہ فساد نہیں کرتا اور ہمارے چند آدمیوں کے داخلہ سے فساد کا اندیشہ ہے۔اُس وقت پولیٹیکل سیکرٹری سر تھامسن تھے اُنہوں نے جواب دیا میں اس میں کیا کر سکتا ہوں میں راجہ سے کہوں گا اگر وہ مان جائے تو بہتر ہے۔سر تھامسن نے ہمدردی کی مگر ساتھ ہی معذوری کا اظہار بھی کیا لیکن ابھی اس پر پندرہ دن بھی گزرنے نہ پائے تھے کہ راجہ پاگل ہو گیا اور اُس کو ریاست سے باہر نکال دیا گیا اور پاگل ہونے کی حالت میں ہی وہ مرا۔اسی طرح اُس وقت کے الور والے راجہ کو بھی بعد میں سیاسی جرائم کی وجہ سے نکال دیا گیا۔پس ہما را خدا جو علیم اور خبیر ہے وہ اب بھی موجود ہے اگر ہم انصاف سے کام لیں گے اور پھر بھی ہم پر ظلم ہوگا تو وہ ضرور ظالموں کو گرفت کئے بغیر نہ چھوڑیگا۔ظلم تو ہمیشہ سے نبیوں کی