انوارالعلوم (جلد 18) — Page 436
انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۳۶ دنیا کی موجودہ بے چینی کا اسلام کیا علاج پیش کرتا ہے لا والذى القربى واليتمى وَالْمَسْكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَي لَا يَكُونَ دُولَةً بين الأغنياء منكر، ۱۵ا یعنی بستیوں کے لوگوں کا جو مال اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو عطا فرماتا ہے وہ اللہ اور اس کے رسول اور قرابت داروں کا ہے اسی طرح یتامیٰ اور مساکین اور مسافروں کا ہے اور ہم نے یہ قانون اس لئے بنایا ہے کہ یہ دولت تم میں سے امراء کے اندر ہی چکر نہ کاٹتی رہے بلکہ غرباء کی ضرورت کا بھی خیال رکھا جائے۔ہاں اسلام یہ نہیں کہتا کہ مالداروں سے پورے طور پر دولت چھین لی جائے اور ہر رنگ میں مساوات قائم کر دی جائے بلکہ وہ انفرادی آزادی کا حق بھی قائم رکھتا ہے لیکن ساتھ ہی وہ نظام حکومت کو توجہ دلاتا ہے کہ اپنے مالوں کو اس رنگ میں خرچ کرو کہ اس کے ذریعہ غرباء کوترقی حاصل ہو۔چوتھی بات یہ ہے کہ قومی جنبہ داری کی روح کو دور کیا جائے۔دنیا میں اکثر لوگ ایسے ہیں جو صرف اتنی بات دیکھتے ہیں کہ چونکہ ہماری قوم فلاں بات کہتی ہے اس لئے اس کی بات درست ہے اور اب ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی قوم کی ہر بات کی تائید کریں۔وہ یہ نہیں دیکھتے کہ قوم حق پر ہے یا نا حق پر۔اور چونکہ قوم کو یہ توقع ہوتی ہے کہ افراد قوم ہر حالت میں ہمارا ساتھ دیں گے اس لئے وہ جائز و نا جائز ہر قسم کے کام کو اپنے لئے مباح سمجھتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلا تَتَنا جوا بالاثم وَالْعُدْوَانِ وَ مخصيّت الرَّسُولِ وَ تَنَاجَوْا بِالبِرِّ وَ التَّقْوَى وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي إِلَيْهِ تعشرون 14 یعنی اے مومنو! تم اہم امور میں مشورہ کرو تو ہمیشہ اس اصل کو اپنے سامنے رکھو کہ ہم گناہ اور زیادتی اور اپنے رسول کی نافرمانی کسی صورت میں نہیں کریں گے اور ایسے معاملات میں اپنی قوم سے علیحدہ ہو جائیں گے۔پس اسلام اس قسم کے جتھے کو نا جائز قرار دیتا ہے جس کے اندر گناہ اور زیادتی اور معصية الرسول سے بچنے کی کوشش نہ کی جائے۔ہاں اسلام یہ کہتا ہے و تنا جوا بالبر و التَّقوی کہ ایسی کمیٹیاں بناؤ جو نیکی اور تقویٰ پر مبنی ہوں واتَّقُوا اللہ اور اللہ تعالیٰ کا خوف اپنے دلوں میں پیدا کرو اور اس کی حدود توڑنے سے پر ہیز کرو کیونکہ تمہاری یہ پارٹیاں اس دنیا میں ہی رہ جائیں گی تم عارضی طور پر اس دار الامتحان میں آئے ہو مگر تمہاری نجات اگلی دنیا سے وابستہ ہے۔پس ایسے اعمال نہ کرو کہ۔