انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 418 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 418

انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۱۸ دنیا کی موجودہ بے چینی کا اسلام کیا علاج پیش کرتا ہے سارے کا سارا نظام یکساں طور پر چل رہا ہے، سورج اپنے اصل کے ماتحت کام کر رہا ہے، زمین اپنے طریق پر حرکت کر رہی ہے اور اس کی حرکت ایک خاص نظام کے ماتحت نظر آتی ہے۔غرض اس دنیا کی تمام چیزوں میں ایک ایسا نظام نظر آتا ہے جو ایک دوسرے کو متحد کئے ہوئے ہے اور کسی چیز میں ٹکڑا ؤ نظر نہیں آتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب ساری دنیا میں تمہیں ایک ہی نظام نظر آتا ہے تو تم کس طرح کہتے ہو کہ خدا تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا معبود بھی ہے کیونکہ اگر دو ہوتے تو ان میں ضرور فساد ہوتا اور کائناتِ عالم کا نظام اس طرح نہ چل سکتا۔اب ہمیں فساد کی وجہ معلوم ہوگئی کہ جب کسی نظام میں خلل پڑ جائے تو فساد پیدا ہوتا ہے اور جب ایک مرکز کے ساتھ متحد رہیں تو فسادات پیدا نہیں ہوتے۔پس اس قانون کے ماتحت ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ جب کسی انسان کے دماغ پر دو حاکم ہوں تو وہ آرام میں نہیں رہ سکتا بلکہ یہ ضروری بات ہے کہ اس کے دماغ میں پراگندگی اور فساد پیدا ہو۔مثلاً خدا بھی حاکم ہوا اور اس کا نفس بھی حاکم ہو تو فساد پیدا ہوگا یا خدا بھی حاکم ہو اور اس کی قوم بھی اس پر حاکم ہو تو فساد پیدا ہو گا یا اس پر خدا بھی حاکم ہواور اس کی قوم کے رسم و رواج بھی حاکم ہوں تو فساد پیدا ہوگا یا خدا تعالیٰ بھی حاکم ہو اور اس کی حکومت بھی اس پر حاکم ہو تو فساد پیدا ہو گا۔غرض کئی قسم کی حکومتیں پائی جاتی ہیں جو شخص ان مختلف حکومتوں کے ماتحت ہو گا اسے کبھی بھی اطمینانِ قلب نصیب نہ ہوگا۔ایک شخص مذہب کو بھی تسلیم کرتا ہے اور ادھر اس کے تعلقات مغربی دنیا کے ساتھ ہیں جو ایسے کاموں کی طرف اسے لے جاتے ہیں جو خلاف اسلام ہیں اور اس وجہ سے نماز روزہ کے متعلق یہ سمجھنے لگ جاتا ہے کہ یہ پرانے زمانہ کی باتیں ہیں۔ادھر قرآن کریم اسے کہتا ہے کہ نماز پڑھوا اور روزے رکھو اور زکوۃ ادا کرو لیکن جب وہ دوسرے لوگوں کی مجلس میں جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ تو پرانے زمانہ کی باتیں ہیں۔ایسا انسان آخر دہر یہ ہو جاتا ہے کیونکہ اس کے دل پر پورے طور پر یا تو خدا تعالی کی حکومت قائم ہو سکتی ہے یا شیطان کی حکومت قائم ہوسکتی ہے دوکشتیوں میں پاؤں رکھ کر کوئی شخص بچ نہیں سکتا۔جب ایک طرف خدا تعالیٰ معبود ہو اور دوسری طرف دوست معبود بنے ہوئے ہوں یا ایک طرف اللہ تعالیٰ معبود ہو اور دوسری طرف قوم اور اس کے رسم و رواج اور اس کا فلسفہ معبود بنا ہوا ہو تو ایسا شخص اطمینان سے نہیں رہ سکتا کیونکہ قرآن کریم نے یہ اصول