انوارالعلوم (جلد 18) — Page 283
انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۸۳ تحریک جدید کی اہمیت اور اس کے اغراض و مقاصد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ایک دفعہ حضرت ابو عبیدہ نے لکھا کہ عیسائیوں نے لشکر اسلام پر سخت حملہ کر دیا ہے ان کا کئی لاکھ لشکر ہے اور اسلامی لشکر صرف چند ہزار ہے دشمن کا کامیاب مقابلہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ کم از کم آٹھ ہزار سپاہی ہمیں مدد کے لئے بھجوائے جائیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب میں لکھا تمہارا خط پہنچا جس میں تم نے آٹھ ہزار فوج اپنی مدد کے لئے مانگی ہے میں معدی کرب کو بھیجتا ہوں یہ تین ہزار کا قائم مقام ہے باقی پانچ ہزار سپاہی بھی عنقریب بھیج دیئے جائیں گے۔صحابہ کا ایمان بھی دیکھو جب حضرت عمرؓ کا یہ خط پہنچا تو انہوں نے افسوس نہیں کیا کہ عمرؓ نے ہمارے مطالبہ کا کیا جواب دیا ہے بلکہ جب معدی کرب آئے تو حضرت ابوعبیدہ نے لشکر اسلام سے کہا کہ معدی کرب جن کو حضرت عمر نے تین ہزار کا قائم مقام قرار دیا ہے آ رہے ہیں ان کا استقبال کرنے چلو۔چنانچہ جب معدی کرب پہنچے تو لشکر اسلام نے اس زور سے اللہ اکبر کے نعرے بلند کئے کہ دشمن نے سمجھا مسلمانوں کو کمک پہنچ گئی ہے اور وہ ڈر کر کئی مقامات سے خود بخود پیچھے ہٹ گیا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے معدی کربوں کی فوج کے سپاہی بھی اب یکے بعد دیگرے اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے باہر جانے شروع ہو گئے ہیں جن کی کوششوں کے نتیجہ میں ہماری جماعت مختلف ممالک میں اب پہلے سے بہت زیادہ مقبولیت حاصل کر رہی ہے اور اس کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔چنانچہ مختلف ممالک سے اس قسم کی کئی خوشخبریاں ہمیں مل رہی ہیں مثلاً انگلستان میں پہلے یہ حالت ہوا کرتی تھی کہ کسی ہسٹیریا کی ماری ہوئی عورت کو اگر عیسائیت میں اطمینان حاصل نہ ہوا تو وہ اسلام کی آغوش میں آگئی یا کسی عورت کا کوئی معشوق بھاگ گیا اور اُسے اپنی زندگی دو بھر معلوم ہونے لگی اور پھر اس دوران میں اس نے ہمارے مبلغ کو کہیں تقریر کرتے دیکھ لیا اور اُس نے سمجھا کہ شاید خدا کی پناہ میں مجھے اطمینان حاصل ہو جائے چنانچہ وہ آتی اور اسلام قبول کر لیتی۔اسی طرح اگر کوئی مرد بھی اسلام قبول کرتا تو ایسا ہی ہوتا جو سوسائٹی کا مارا ہوا ہوتا سوائے تین چار کے جوا چھے طبقہ سے تعلق رکھتے تھے مگر اب نسبتاً زیادہ معقول اور با حیثیت لوگ احمدیت میں شامل ہو رہے ہیں۔میں ہمیشہ اپنے اُن مبلغوں کو جنہیں یورپ میں تبلیغ کے لئے بھیجا جاتا ہے کہا کرتا ہوں کہ تمہیں عورتوں کی بجائے مردوں کو زیادہ تبلیغ کرنی چاہئے کیونکہ یورپ میں عورتیں مردوں سے