انوارالعلوم (جلد 18) — Page 270
انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۷۰ تحریک جدید کی اہمیت اور اس کے اغراض و مقاصد ہوا تو اجمالی طور پر سورہ فاتحہ سے نہ مل گیا ہو اور میرے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ایسا متواتر اور مسلسل سلوک ہے کہ اس کے خلاف کبھی ایک دفعہ بھی نہیں ہوتا۔اسی طرح خدا تعالیٰ کے فضل سے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں نے سورۃ فاتحہ پر غور کیا ہو تو اس کے بیسیوں نئے مضامین مجھ پر نہ کھولے گئے ہوں۔بے شک کچھ مضامین ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہمیشہ دُہرانے پڑتے ہیں مگر ان مضامین کے علاوہ جب بھی میں نے سورہ فاتحہ پر غور کیا ہے ہمیشہ کچھ نہ کچھ زائد مضامین بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے عطا کئے گئے ہیں۔تفسیر کبیر کی پہلی جلد جب میں نے لکھنی شروع کی تو اُس وقت میں چاہتا تھا کہ سورہ فاتحہ کی تفسیر کو تئیں چالیس صفحات میں ہی ختم کر دیا جائے کیونکہ میرا منشاء یہ تھا کہ چھوٹے چھوٹے تفسیری نوٹوں کے ساتھ جلد سے جلد سارا قرآن کریم شائع کر دیا جائے۔پس چونکہ ارادہ یہ تھا کہ مختصر نوٹ ہوں اس لئے میں نے فیصلہ کیا کہ سورہ فاتحہ کی تفسیر کو تمیں چالیس صفحات تک ہی محدود رکھا جائے اور چونکہ پُرانے مضامین ہی اس کثرت کے ساتھ ہیں کہ اگر ان کو لکھا جائے تو وہ نہیں چالیس صفحات میں نہیں آسکتے اس لئے میں نے سمجھا کہ اس تفسیر کے لئے کسی نئے مضمون کی ضرورت نہیں پرانے مضامین ہی کافی ہیں مگر لکھتے لکھتے مجھے خیال آیا کہ اگر اللہ تعالیٰ اس وقت بھی کوئی نیا نکتہ سمجھا دے تو یہ اس کا فضل اور احسان ہوگا۔چنانچہ ادھر میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی اور ادھر فوری طور پر اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے سورہ فاتحہ کے چند ایسے نئے نکات سمجھا دیئے جو پہلے کبھی ذہن میں نہیں آئے تھے اور جو نہایت اہم اور اصولی نکتے تھے جن کا سلسلہ اور اسلام کی ترقی کے ساتھ گہرا تعلق تھا چنانچہ میں نے ان نکات کو بھی تفسیر میں درج کر دیا۔غرض میرے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ سے یہ سلوک چلا آ رہا ہے کہ وہ غور کرنے پر سورہ فاتحہ کے نئے سے نئے مطالب مجھ پر روشن فرماتا ہے اور درحقیقت علم وہی ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہو بندہ آخر دوسرے کو کتنا سکھا سکتا ہے معمولی معمولی ضرورتیں بھی تو انسان پورے طور پر دوسرے کو نہیں بتا سکتا۔پھر علمی اور اخلاقی اور روحانی ضرورتیں کوئی انسان دوسرے کو کس طرح بتا سکتا ہے اور کس طرح کوئی انسان دوسرے کی ہر ضرورت کو پورا کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔میں آجکل بیمار ہوں میں نے دیکھا ہے بعض دن مجھ پر ایسے گزرتے ہیں کہ نہ