انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 269 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 269

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۲۶۹ تحریک جدید کی اہمیت اور اس کے اغراض و مقاصد سے مجھے سورہ فاتحہ کی تفسیر سکھائی گئی ہے۔چنانچہ میں نے اس رؤیا کو بیان کرنا شروع کر دیا۔میں نے دیکھا کہ یہ رویا سنتے وقت حضرت خلیفہ اول کا چہرہ خوشی سے چمکنے لگ گیا۔جب رؤیا ختم ہوا تو آپ نے فرمایا اُن باتوں میں سے کچھ ہمیں بھی سناؤ جو فرشتہ نے تمہیں سکھائی ہیں۔میں نے کہا دو تین باتیں مجھے یاد تھیں مگر چونکہ بعد میں میں سو گیا اس لئے وہ باتیں مجھے یاد نہیں رہیں۔اس پر حضرت خلیفہ اول ناراض ہو کر فرمانے لگے تم نے بڑی غفلت کی کہ فرشتہ کی سکھائی تفسیر کو بھلا دیا۔اگر تمہیں ساری رات بھی جاگنا پڑتا تو تمہیں چاہئے تھا کہ تم جاگتے اور اُن باتوں کو لکھ لیتے ، سونے کے بعد تو خواب بدل جایا کرتا ہے۔اُس وقت میرے دل میں بھی ندامت پیدا ہوئی اور مجھے احساس ہوا کہ اگر میں فرشتہ کی بتائی باتوں کو لکھ لیتا تو اچھا ہوتا کیونکہ پہلے کسی اور تاویل کی طرف میرا ذہن نہیں جاتا تھا مگر بعد میں میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کا متواتر میرے ساتھ یہ سلوک ہے کہ جب میں سورہ فاتحہ پر غور کروں تو وہ ہمیشہ اس سورۃ کے نئے مطالب مجھ پر کھولتا ہے۔ابھی گزشتہ سال اللہ تعالیٰ نے اسلام کی اقتصادی ، سیاسی اور تمدنی ترقی کے متعلق سورہ فاتحہ سے ایک لمبا مضمون مجھے بتایا۔وہ مضمون اپنی ذات میں اس قدرا ہم اور عظیم الشان ہے کہ اگر اس کو پوری طرح سمجھ لیا جائے تو ان تمام مفاسد کو کا میاب طور پر رڈ کیا جاسکتا ہے جنہوں نے آج دنیا کو نئی قسم کی مشکلات میں مبتلا کیا ہوا ہے۔گویا سورہ فاتحہ صرف روحانی ترقی کے ذرائع ہی بیان نہیں کرتی بلکہ اس میں ہر قسم کے فلسفی ، سیاسی اور اقتصادی جھگڑوں کے دور کرنے کے ذرائع بھی بیان کئے گئے ہیں اور ایسے طریق بتائے گئے ہیں جن پر چل کرد جال کی ظاہری شان و شوکت کو مٹایا جاسکتا ہے۔بہر حال ایک لمبے عرصہ سے اللہ تعالیٰ کا میرے ساتھ یہ سلوک چلا آ رہا ہے کہ وہ ہمیشہ سورۃ فاتحہ کے نئے حقائق مجھ پر روشن فرماتا ہے یہاں تک کہ دنیا کا کوئی اہم مسئلہ نہیں جس کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے میں نے سورۃ فاتحہ پر غور کیا اور مجھے اس کا صحیح حل اس سورۃ سے نہ مل گیا ہو۔جس وقت میں نے یہ رویا دیکھا میری عمر ۱۷ سال تھی اور اب میری عمر ستاون ۵۷ سال ہے گویا چالیس سال اس رویا پر گزر چکے ہیں۔اس چالیس سالہ عرصہ میں کبھی ایک دفعہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ دشمن نے کوئی اعتراض کیا ہو اور اس کا جواب تفصیلی طور پر قرآن کریم سے معلوم نہ